تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 212
زلزلے ہیں، سیلاب ہیں، گرنے والی بجلیاں ہیں، یہ سب چیزیں خشیت اﷲپیدا کرنے کا موجب ہوتی ہیں اور ان چیزوں سے پتھر بھی گرتے ہیں۔پس مطلب یہ ہوا کہ سیلاب آتے ہیں تو پتھر بھی ان سے متأثر ہو جاتے ہیں۔آندھیاں آتی ہیں تو پتھر بھی ان سے متأثر ہو جاتے ہیں۔زلزلے آتے اور بجلیاں گرتی ہیں تو بھی پتھر ان سے متاثر ہو جاتے ہیں لیکن زمینی اور آسمانی انقلابات متواتر اور شدّت کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں مگر ان سنگ دل اور متعصّب یہودیوں کے دلوں میں کچھ بھی خدا کا خوف پیدا نہیں ہوتا اور ان کے دل خدا تعالیٰ کے سامنے جھکتے ہی نہیں۔دوسرے معنی اس کے اس طرح پر کئے جا سکتے ہیں کہ گو خشیت کے معنے ڈرنے کے ہیں لیکن کبھی ثلاثی مصدر رباعی کے قائم مقام کے طورپر بھی استعمال ہو جاتا ہے ( بحرِ محیط زیر آیت ھذا) اسی طرح خشیت اس جگہ اِخْشَاءٌ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور معنے یہ ہیں کہ اﷲ تعالیٰ سے ڈرانے والی چیزوں کے سبب سے ( جیسے آندھیاں، سیلاب، بجلیاں اور زلزلے ہیں ) بعض پتھر گر جاتے ہیں۔اس تشریح کے لحاظ سے بھی معنے وہی رہیں گے جو پہلے بیان ہوئے ہیں۔صرف نحوی ترکیب میں فرق پڑ جائے گا یعنی پہلے معنی اس بنیاد پر کئے گئے تھے کہ یہاں مضاف حذف ہو گیا ہے اور دوسری تشریح کے رو سے وہی معنے اس لحاظ سے کئے گئے ہیں کہ خشیت کا لفظ ہی اِخْشَاءٌ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ان دوسرے معنوں کے کرتے وقت یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گاکہ اس جگہ مصدر بمعنے اسم فاعل استعمال ہوا ہے جیسے کہتے ہیں زَیْدٌ عَدْلٌ اور مراد یہ ہوتا ہے کہ زَیْدٌ عَادِلٌ۔اور یہ سمجھا جائے گا کہ خشیت بمعنے اِخْشَاءٌ استعمال ہوا ہے اور اِخْشَاءٌ مَـخْشِیٌّ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔(مصدر بمعنی اسم فاعل و مفعول استعمال ہونے کے لئے دیکھو رضی بحث مصدر) تیسرے معنی اس آیت کے یوں کئے جا سکتے ہیں کہ ھَا کی ضمیر قلوب کی طرف پھیری جائے اور یوں معنی کئے جائیں کہ دلوں میں سے یقیناً بعض ایسے ہوتے ہیں جو اﷲ تعالیٰ کی خشیت سے گر جاتے ہیں۔قُلُوبٌ کا لفظ پہلے آچکا ہے اور اس کی طرف ضمیر عربی قاعدہ کے رو سے جا سکتی ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ قُلُوْبٌ کا لفظ پہلے ہے اور حِجَارَۃٌ کا لفظ بعد میں۔اور اس سے پہلے کی جو ضمیریں ہیں وہ حِجَارَۃٌ کی طرف پھیری جا چکی ہیں۔پس حِجَارَۃٌ کا لفظ جو بعد میں استعمال ہوا ہے اُس کی طرف ضمائر کے پھیرے جانے کے بعد ایک ضمیر کا قلوب کی طرف جو حِجَارَۃٌ سے پہلے بیان ہوا ہے۔پھیرنا صحیح نہیں معلوم ہوتا۔لیکن یہ اعتراض درست نہ ہو گا کیونکہ عربی زبان میں ضمائر کو اس طرح پھیرنا جائز ہوتا ہے۔اﷲتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ