تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 207
خاص نام ہائی ٹریزن(HIGH TREASON) کا دیا ہے اور ’’ ہائی ٹریزن‘‘ کے جرم میں جن لوگوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے ضروری نہیں ہوتا کہ اُن کا جُرم قتل کے جرم پر ہی مشتمل ہو۔آجکل بھی جب کہ دوسری جنگ ِ عالم جاری ہے۔معمولی جاسوسیوں کے جرم میں لوگوں کو پھانسیاں ملتی ہیں۔عیسائی اور یہودی یہ تو اعتراض کرتے ہیں کہ کعب بن اشرف اور ابورافع بن ابی الحقیق کو کیوں مروا دیا گیا مگر یہ کبھی نہیں سوچتے کہ یہ اشخاص محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے قتل کرنے کے فکر میں تھے اور اس کے لئے لوگوں کو اُکساتے تھے۔کیا دنیا کی کوئی بھی حکومت ہے جو ایسے آدمی کو قتل نہ کرے گی جو اُن کی حکومت کے افسر یا رئیس کو قتل کروانے کے لئے باقاعدہ سازشیں کر رہا ہو۔اس صورت میں وہی حکومت اس بات سے اغماض کر سکتی ہے جو خود بھی اپنے سردار کی قیمت کو نہ سمجھتی ہو اور اُس کے مارے جانے میں مُلک کا کوئی زیادہ حرج نہ پاتی ہو مگر صحابہؓتو رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے عاشق تھے۔اُن کی محبت کا اندازہ اسی مذکورہ بالا واقعہ سے ہی کیا جا سکتا ہے جس میں ذکر ہے کہ جب ایک صحابی رات کے وقت فوت ہونے لگا تو اس نے وصیت کی کہ میرے مرنے کی رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو خبر نہ دی جائے تا ایسا نہ ہو کہ آپ ہمدردی کی وجہ سے رات کے وقت میرے مکان پر آنا چاہیں اور یہودی آپ کو قتل کر دیں۔صحابہ ؓ کے دل میں رسول کریم صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے جنازہ پڑھانے کی جو قیمت تھی اُس کا پورا اندازہ عیسائی اور یہودی نہیں لگا سکتے لیکن پھر بھی اگر وہ تعصّب سے خالی ہو کر اُس صحابی کی اس قربانی پر غور کریں تو وہ سمجھ سکیں گے کہ رسول کریم صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم کی جان کو یہودیوں سے اُس وقت بہت ہی بڑا خطرہ تھا۔اتنا بڑا خطرہ کہ جس کے لئے اس صحابی نے اس نعمت کو قربان کر دیا۔جو نعمت یقیناً اس کو اپنی جائیداد اور اپنے بال بچوں کی جان سے زیادہ پیاری تھی۔اگر خطرہ حقیقی نہ ہوتا اور بہت سخت نہ ہوتا تو کبھی بھی وہ صحابی اپنے آپ کو اس نعمت سے محروم نہ کرتا کہ رسول کریم صلے اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم اس کا جنازہ پڑھائیں۔ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اس کے بعد پھر تمہارے دل سخت ہو گئے چنانچہ وہ پتھروں کی طرح بلکہ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ (ان سے بھی) زیادہ سخت ہیں اور پتھروںمیں سے تو یقیناً بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں سے