تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 203

امر پر ہے کہ خدا رحمٰن نہیں۔اگر وہ رحمٰن ہے تو پھر وہ گناہ بھی بخش سکتا ہے لیکن عیسائیت کہتی ہے کہ وہ کسی کو بخش نہیں سکتا کیونکہ یہ اس کے عدل کے خلاف ہے گویا جو کام اس دنیا میں ہرانسان کرتا ہے اور جس کام کے کرنے پر انسان کی تعریف کی جاتی ہے نہ کہ مذمت وہ خدا نہیں کر سکتا لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کا رحم تقاضا کرتا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو بخشے۔پس اس نے اپنے بیٹے کو دنیامیں بھیجا اور وہ لوگوں کے گناہوں کے بدلہ میں پھانسی پر لٹک گیا۔اب چونکہ تمام گناہ خود اس نے اٹھا لئے ہیں اور وہ لوگوں کے گناہوں کے بدلہ میں کفار ہ ہو گیا اس لئے لوگوں کو کسی اور عمل کی ضرورت نہیں وہ مسیح ؑ پر ایمان لانے کے نتیجہ میں ہی نجات پا جائیں گے۔غرض عیسائیت کی ساری بنیاد ہی اس امر پر ہے کہ خدا رحمٰن نہیں۔لیکن قرآن کہتا ہے کہ حضرت مریم نے جب یہ نظارہ دیکھا تو انہوں نے کہا اِنِّيْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِيًّا۔اگر تو تقی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں رحمٰن کے معنے ہیں وہ ہستی ہے جو بغیر کسی عمل کے انسان کو اپنی نعمتوں سے متمتع فرماتی ہے۔یہ ایک رؤیا کا نظارہ تھا جو حضرت مریم نے دیکھا۔اور رؤیا میں جب انسان کوئی خطرہ کی بات دیکھتاہے۔تو جس طرح مادی دنیا میں وہ گھبراتا ہے اسی طرح خواب میں بھی گھبراتا ہے۔مثلاً اگر تم رؤیا میں دیکھو کہ تم اوپر سے گرنے لگے ہو توتم ڈرو گے۔اگر تم دیکھوکہ تم ڈوبنے لگے ہو تو تم گھبرائو گے۔اسی طرح خواب میں اگر کوئی دیکھے کہ وہ مرنے لگا ہے تو وہ خوش نہیں ہو گا۔بلکہ غمزدہ ہوگا۔پس بے شک یہ ایک کشفی نظارہ تھا جو انہوں نے دیکھا۔لیکن ظاہر میں جو بات ناپسندیدہ ہو وہ اگر کشف میں پیش آئے تو انسان ناپسندیدگی کا ہی اظہار کرے گا۔اسی وجہ سے حضرت مریم نے جب فرشتہ کو انسانی صورت میں اپنے سامنے کھڑا دیکھا تو وہ گھبرا گئیں اور انہوں نے کہا کہ اِنِّيْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِيًّا۔ان الفاظ میں ان کے قلب کی کیفیت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ حضرت مریم اس نظارہ کو دیکھ کر اس قدر گھبرائیں کہ انہوں نے اس سے کہا کہ اگر تجھ میں تقویٰ پایا جاتا ہے۔تو میں خدائے رحمٰن سے دعا کرتی ہوں کہ وہ مجھے تیرے شر سے بچا لے۔رحمٰن کے معنے ہیں وہ ہستی جو بے محنت اور کوشش کے اپنافضل نازل کرتی ہے۔گویا وہ اس قدر گھبرا گئیں کہ انہوں نے کہا خدایا تو میرے عمل کو نہ دیکھ کہ میں نے تیری رضاء کے لئے کچھ کیا ہے یا نہیں میں تجھے رحمانیت کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ تو مجھے اس کے شر سے محفوظ رکھ۔اگر اس میں رحیمیت کا واسطہ ہوتا تو اس کے معنے یہ ہوتے کہ خدایا کچھ عمل میں نے بھی کئے ہوئے ہیں ان کی جزاء کے طورپر میں تجھ سے درخواست کرتی ہوں کہ مجھ پر رحم فرما لیکن وہ رحیمیت کا واسطہ نہیں دیتیں۔وہ اپنے انتہائی درد اور کرب کی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئی رحمانیت کا واسطہ دیتی ہیں اور کہتی ہیں خدایا میرا کوئی عمل نہیں مجھ بے عمل پر ہی