تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 179
طور پر ایک دوسرے کے مشابہ ہو گئے کہ ان کا پہچاننا مشکل ہو گیا۔(اقرب) تفسیر۔پھر بھی وہ لوگ سوال سے باز نہ آئے اور کہا ہمیں کچھ اور شرطیں بتاؤ مگر دل میں چونکہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اس جگہ پر بَیل کی قربانی سے مراد اُس خاص بَیل کی قربانی ہے جو ہماری قوم میں معزز سمجھا جاتا ہے۔اس لئے یہ بھی فیصلہ کر لیا کہ اگر یہی حکم ہوا تو ہم اسے ذبح کر ہی دیںگے پس ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا۔وَ اِنَّ اِنْشَآءَ اللہُ لَمُھْتَدُوْنَ۔کہ خدا نے چاہا تو جو بَیل بھی آپ کہیں گے ہم اسے قربان کر دیں گے۔قَالَ اِنَّهٗ يَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِيْرُ الْاَرْضَ وَ لَا (موسیٰ ؑ نے )کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہے نہ تو جوئے کے نیچے لائے گئی ہے کہ ہل چلاتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی تَسْقِي الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيْهَا١ؕ قَالُوا الْـٰٔنَ دیتی ہے۔بالکل تندرست ہے اس میں کوئی غیر رنگ نہیں( پایا جاتا )انہوں نے کہا (ہاں) اب تو نے( ہم پر) جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا يَفْعَلُوْنَؒ۰۰۷۲ حقیقت کھول دی ہے چنانچہ انہوں نے اس( گائے) کو ذبح کر دیا۔گو وہ ایسا کرنے پر آمادہ نہ تھے۔حَلّ لُغَات۔مُسَلَّمَۃٌ۔سَلَّمَ سے اسم مفعول مُسَلَّمٌ آتا ہے۔مُسَلَّمَۃٌ مُسَلَّمٌ کا مؤنث کا صیغہ ہے۔سَلَّمَہُ اللہُ مِنَ الْاٰفَۃِ کے معنے ہیں وَقَاہُ اِیَّاھَا کہ اﷲ تعالیٰ نے فلاں شخص کو بیماریوں، تکالیف اور خرابیوں وغیرہ کی آفات سے محفوظ رکھا۔(اقرب) پس مُسَلَّمَۃٌ کے معنے ہوں گے تندرست۔جملہ بیماریوں اور خرابیوں سے محفوظ اور بچی ہوئی۔شِیَۃٌ۔وَ شَیْتُ الشَّیْءَ وَشْیًا کے معنے ہیں جَعَلْتُ فِیْہِ اَثَرًا یُخَالِفُ مُعْظَمَ لَوْنِہٖ۔مَیں نے کسی چیز میں ایسا نشان کر دیا جو اس کے اصل رنگ کے مخالف تھا (مفردات) شِیَۃٌ۔کُلُّ لَوْنٍ یُخَالِفُ مُعْظَمَ لَوْنِ الْفَرَسِ وَغَیْرِہٖ یعنی گھوڑے یا کسی اور جانور کے بدن کے اکثر رنگ کے خلاف جو اس کے بدن میں تھوڑا سا رنگ ہو۔اس کو شِیَۃٌ کہتے ہیں ( مثلاً کسی جانور کے بدن کا سارا رنگ سفید ہے۔اس میں قدرے کہیں سیاہی آ جائے یا سارا رنگ سیاہ ہے اور کہیں سفیدی آ جائے ) شِیَۃٌ کی جمع شِیَاتٌ آتی ہے (اقرب) پس لَاشِیَۃَ فِیْہَا کے معنے