تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 178

ہے اور کوئی سرُخ جیسے زعفران ہے۔زعفران اگر مختلف لوگوں کے سامنے رکھا جائے تو بعض لوگ اس کا رنگ سُرخ بتائیں گے اور بعض اس کا زرد رنگ قرار دیں گے جس رنگ کی وہ گائے تھی۔معلوم ہوتا ہے یہودی لوگ اس کو سُرخ کہا کرتے تھے اور عرب کے لوگ اسے زرد کہتے تھے۔قرآن آخر عربی میں اُترا ہے اور اُس نے عربی کے محاورہ کو ہی استعمال کرنا تھا پس یہ حقیقی اختلاف نہیں بلکہ ایک ہی بات کو مختلف طریق سے بیان کرنے کی ایک مثال ہے۔تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ میںلفظتَسُرُّ کی ضمیر کا مرجع تَسُرُّ کا صیغہ مؤنث آیا ہے حالانکہ تَسُرُّ کی ضمیر لَوْنٌ کی طرف جاتی ہے جو مذکّر ہے۔لَون کو مدِّنظر رکھتے ہوئے یہاں یَسُرُّ چاہیے تھا نہ کہ تَسُرُّ۔اِس اشکال کا جواب یہ ہے کہ عربی زبان کا یہ بھی ایک قاعدہ ہے کہ جب کوئی لفظ کسی دوسرے لفظ کی طرف مضاف ہو تو خواہ وہ مذکر ہو یا مؤنث۔مضاف الیہ کے مطابق اُس کی طرف ضمیر پھیرنی بھی جائز ہوتی ہے۔فرض کرو مضاف مذکر ہے اور مضاف الیہ مؤنث ہے تو یہ جائز ہو گا کہ باوجود مضاف کے مذکر ہونے کے اس کی طرف مؤنث کی ضمیر پھیر دی جائے۔چونکہ لَوْن۔ھا کی طرف جو مؤنث کی ضمیر ہے مضاف ہوا تھا اس لئے باوجود اس کے مذکر ہونے کے ھَا کو مدّنظر رکھتے ہوئے تَسُرُّ میں مؤنث کی ضمیر استعمال کی گئی۔دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ کبھی کبھی عربی زبان میں ضمیر بالمعنیٰ بھی پھیر دی جاتی ہے چونکہ لَوْن سے مراد صُفْرَۃٌ تھی ( یعنی زردرنگ) جو مؤنث ہے اِس لئے مؤنث کی ضمیر پھیر دی گئی۔تیسرا جواب اس کا یہ ہے کہ ہو سکتا ہے۔تَسُرُّ کی ضمیر لَوْنکی طرف نہیں بلکہ بَقَرَة کی طرف جاتی ہے۔تَسُرُّالنّٰظِرِیْنَ بَقَرة کی دوسری صفت ہو۔مطلب یہ کہ وہ بَیل زرد بھی ہے اور ایسا خوبصورت بھی ہے کہ دیکھنے والوں کو پسند آتا ہے۔قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا هِيَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ انہوں نے کہا کہ ہماری خاطر اپنے رب سے (پھر )دعا کیجئے کہ وہ ہمیں کھول کر بتائے کہ وہ( گائے) کیسی ہے۔ہمیں تو عَلَيْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ۰۰۷۱ اس قسم کی( سب) گائیں ایک ہی جیسی نظر آتی ہیں اور( یقین رکھیے کہ) اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور ہدایت کوقبول کر لیں گے۔حَلّ لُغَات۔تَشَا بَہَ۔اَلرَّجُلَانِ کے معنے ہیں اَشْبَہَ کُلٌّ مِّنْہُمَاالْاٰخَرَحَتَّی الْتَبَسَا کہ دو شخص اس