تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 171
بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ انہوں نے کہا کیاتو ہمیں تمسخر کا نشانہ بنا تا ہے (موسیٰ نے) کہا میں (اس بات سے )اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ( ایسا مِنَ الْجٰهِلِيْنَ۰۰۶۸ فعل کرکے) میں جاہلوں میں شامل ہو جاؤں۔حَلّ لُغَات۔ھُزُوًا۔ھَزَأَ بِہٖ اور ھَزَأَ مِنْہُ کے معنے ہیں سَخِرَمِنْہُ اس سے تمسخر کیا (اقرب) ھُزُوًا اس کا مصدر ہے یعنی مسخری کرنا۔مصدر بمعنے اسم مفعول استعمال ہوا ہے اور اَتَتَّخِذُ نَا ھُزُوًا کے معنے یہ ہیں کہ کیا تو ہمیں تمسخر کا نشانہ بناتا ہے۔اَلْـجَاھِلِیْنَ۔اَلْجَاھِلُوْنَ اور اَلْجَاھِلِیْنَ جَھَلَ سے اسم فاعل جمع کا صیغہ ہے۔اَلْجَھْلُ کے ایک معنی ہیں۔فِعْلُ الشَّیْ ءِ بِخِلَافِ مَا حَقُّہٗ اَنْ یُّفْعَلَ کسی امر کو کما حقّہ ادا کرنے کے خلاف ادا کرنا۔(مفردات) تفسیر۔بنی اسرائیل چونکہ مصر میں رہتے تھے اور فرعونی لوگ گائے کی بہت عزت کرتے تھے اِس سبب سے اُن کے دل میں بھی گائے کی عظمت آ گئی تھی چنانچہ اِس سورۃ کی آیت ۵۲ اور خروج باب ۳۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے جب اپنے لئے ایک معبود بنایا تو وہ بچھڑے کی شکل پر ہی تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کے دل میں گائے کی عظمت اُلوہیت کی عظمت تک پہنچی ہوئی تھی اور چونکہ انبیاء کی اصل غرض دنیا سے شرک کا مٹانا اور اس واحد خدا کے جلال کا دنیا پر ظاہر کرنا ہوتا ہے جو سب مخلوق کا خالق اور مالک ہے اس لئے ضرور تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کوئی ایسا سامان بھی کرتی جس سے بنی اسرائیل کے دل سے گائے کی وہ عظمت مٹ جائے جس کی وجہ سے وہ اس کی عبادت تک کے لئے تیار ہو جاتے تھے اور اگر ایسا بندوبست کوئی نہ کیا جاتا تو ضرور تھا کہ کچھ مدّت کے بعد بنی اسرائیل پھر گائے کی پرستش کی طرف متوجہ ہو جاتے۔پس اِس فرض کو پورا کرنے کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں گائے کی قربانی کا کئی جگہ حکم دیا گیا ہے اور یہ ظاہر بات ہے کہ جب ایک قوم ایک جانور کو ذبح کرتی رہے گی تو وہ کبھی اُسے اُلوہیت کی صفات سے متصف نہیں قرار دے سکتی۔بنی اسرائیل کا مصری اثر کے ماتحت گائے کی تعظیم کرنا اور حضرت موسیٰ ؑکا اس عظمت کو مٹانے کے لئے گائے کو ذبح کرنے کا حکم دینا مذکورہ بالا آیات میں بھی اسی امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک