تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 170
حقیقی بندرنہ تھے۔علماء سلف کا اس بات کی تائید کرنا کہ یہودی حقیقی بندر نہ بنے تھے جو معنے ہم نے اوپر کئے ہیں وہ علماءِ سلف سے بھی مروی ہیں چنانچہ مجاہد جو مفسّرین کے سردار مانے جاتے ہیں اور تابعین میں سے ہیں وہ کہتے ہیں مُسِخَتْ قُلُوْبُھُمْ وَ لَمْ یُمْسَخُوْا قِرَدَۃً وَاِنَّمَا ھُوَ مَثَلٌ ضَرَبَہُ اللہُ لَہُمْ (ابن کثیر و درمنثورزیر آیت ھٰذا) یعنی ان کے دل مسخ کر دیئے گئے تھے وہ خود مسخ نہیں کئے گئے اور اﷲ تعالیٰ نے یہ بات صرف ایک مثال کے طور پر بیان فرمائی ہے۔ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ قِرَدَۃً خَاسِئِیْنَ کے معنے اَذِلَّۃً صَاغِرِیْن کے ہیں یعنی ذلیل ،رسوا۔قتادہ اور ربیع اور ابو مالک کا بھی یہی قول ہے ( لغت میں بھی کہتے قَرَدَفُلَانٌ اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں ذلیل ہو گیا) (ایضاً) اسی طرح دوسرے علماء نے بھی کہا ہے۔جُعِلَتْ اَخْـلَاقُھُمْ کَاَخْـلَاقِھَا (مفردات) کہ ان کے اخلاق بندروں جیسے ہو گئے تھے۔یہودیوں میں بندروں کی تین خاصیات کا پیدا ہو جانا بندر بنا دینے سے کیا مراد ہے؟ یہ بھی قرآن کریم سے ہی ظاہر ہے۔اوّل تو وہ ذلیل ہو گئے جس طرح بندروں کو لوگ پکڑ کر نچاتے پھرتے ہیں اور جس طرح قلندر اُن سے کہتا ہے اُن کو کرنا پڑتا ہے اسی طرح اُن پر بھی ایسی حکومتیں مسلّط ہوئیں اور ہوتی رہیںگی جو جس طرح چاہیں گی اُن سے معاملہ کریںگی اُن کا حکومت میں کوئی دخل نہ ہو گا۔دوم بندر کا کام نقل کرنا ہوتا ہے۔بندر کی عادت ہے کہ وہ جو کچھ دیکھتا ہے ویسا ہی کرنے لگتا ہے اور بنی اسرائیل میں سے بھی ایک جماعت کے دل ایسے مسخ ہو گئے تھے کہ خشیت اﷲ کا نام نہ رہا تھا۔ان کے تمام کام نقل کے طور پر تھے۔حقیقت کچھ نہ تھی۔چھلکے کو پکڑے بیٹھے تھے اور مغز سے بالکل بے خبر تھے حتّٰی کہ ایسا بھی کر لیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کے پاس آ کر مسلمان بن جاتے اور ہم مذہبوں کے پاس جا کر یہودی بن جاتے۔تیسرے بندروں میں شہوت زیادہ پائی جاتی ہے۔عربی کا محاورہ ہے فُـلَانٌ اَ زْنٰی مِنْ قِرْدٍ (لسان و تاج) فلاں شخص بندر سے بھی زیادہ زنا کا رہے۔یہود میں بھی بدکاری حد سے بڑھی ہوئی ہے حتّٰی کہ دنیا کے اکثر ملکوں میں یہودی زنانِ بازاری پائی جاتی ہیں۔وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا اور (اس وقت کو بھی یاد کرو کہ) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں ایک گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے