تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 169

کو سن کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ کیا تعجب ہے کہ یہود سے مسخ ہو کر بندر بننے والے ہی رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے پاس آتے ہوں۔اوّل تو جو تشریحات قرآن کریم کی بتائی ہوئی اوپر بتائی گئی ہیں وہ اس توجیہ کی اجازت ہی نہیں دیتیں۔دوسرے جو لوگ اَ ئمہ سابق میں سے اس قسم کے مسخ کے قائل ہیں وہ خود بھی اسے تسلیم نہیں کرتے کہ یہ لوگ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ تک زندہ رہے تھے۔ابن ابی حاتم نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے فَجُعِلُوْا قِرَدَۃً فَوَاقًا ثُمَّ ھَلَکُوْا مَا کَانَ لِلْمَسْخِ نَسْلٌ یعنی یہود ذرہ سی دیر کے لئے بندر بنائے گئے تھے پھر ہلاک ہو گئے تھے اور مسخ شدہ کی نسل نہیں چلا کرتی۔اسی طرح ضحّاک نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے۔فَمَسَخَھُمُ اللہُ قِرَدَۃً بِمَعْصِیَتِہِمْ یَقُوْلُ اِذًالَایُحْیَوْنَ فِی الْاَرْضِ اِلَّا ثَـلَاثَۃَ اَ یَّامٍ قَالَ وَلَمْ یَعِشْ مَسْخٌ قَطُّ فَوْقَ ثَـلَا ثَۃِ اَ یَّامٍ وَلَمْ یَاْکُلْ وَلَمْ یَشْرَبْ وَ لَمْ یَنْسُلْ (ابن کثیر زیر آیت ھٰذا )یعنی ضَحَّاک حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ یہود کو اﷲ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کے سبب سے مسخ کر دیا پھر فرماتے تھے ایسے لوگ دنیا کے پردہ پر تین دن سے زیادہ زندہ نہ رہتے تھے پھر ضحّاک نے کہا کہ کبھی کوئی مسخ شدہ مخلوق تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہی اور مسخ ہونے کے بعد نہ وہ کھانا کھاتی ہے اور نہ وہ پانی پیتی ہے اور نہ اس کی نسل چلتی ہے۔اسی حوالہ سے ظاہر ہے کہ جو لوگ مسخ کے قائل ہیں ان کے نزدیک مسخ کے بعد تین دن سے زیادہ کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا۔جب یہ مسئلہ ہے تو جن مسخ شدہ لوگوں کے بارہ میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ قیامت تک ان پر لوگ مسلّط رہیں گے اور وہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے پاس بھی آیا کرتے تھے اور باتیں کیا کرتے تھے وہ جسمانی طور پر مسخ شدہ کس طرح ہو سکتے ہیں۔بفرضِ محال اگر جسمانی مسخ کو مان لو تو بھی قرآن کریم میں جن لوگوں کے مسخ ہونے کا ذکر ہے ان کی نسبت تو اوپر کے حوالوں کی روشنی میں ماننا پڑے گا کہ وہ تو روحانی طور پر مسخ ہوئے تھے جسمانی طور پر بندر سؤر ہرگز نہ بنے تھے۔قرآن کریم کی مذکورہ بالا تشریح کے علاوہ ایک اور بھی ثبوت ہے جس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس جگہ بندر سے حقیقی بندر مراد نہیں ہیں اور وہ قواعدِزبان کی شہادت ہے۔عربی گرامر کا یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ و ن اور ی ن کو صرف اُن جمع کے صیغوں کے آخر میں لگایا جاتا ہے جو ذوی العقول کے متعلق ہوں یا جو ان کی صفات ہوں اور چونکہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قِرَدَۃً کی صفت خَاسِئِیْنَ بیان فرمائی ہے جس کے آخر میں ی ن ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قِرَدَۃً سے وہ بندر مراد نہیں جو حیوانات کی قسم سے ہیں کیونکہ اگر وہ مراد ہوتے تو قِرَدَۃً کی صفت بجائے خَاسِئِیْنَ کے خَاسِئَۃً آتی۔لیکن چونکہ قِرَدَۃً کی صفت خَاسِئِیْنَ آئی ہے اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ بندر