تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 167
اپنے جانوروں وغیرہ کو بھی کچھ کھانا ڈال دیتے ہیں اور جانور بھی ان اوقات کو خوب اچھی طرح پہچانتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے سبت کے دن نیک لوگ کنارے پرآٹا وغیرہ ڈال دیتے ہوں گے تاکہ یہ اُ ن کی طرف سے صدقہ ہو۔مچھلیاں اُس دن خصوصیّت کے ساتھ وہاں جمع ہو جاتی ہوں گی۔جب شریروں نے یہ نظارہ دیکھا تو انہوں نے سبت کے دن مچھلیاں پکڑنی شروع کر دیں۔ہندو لوگ بھی اپنے مقدّس گھاٹوں پر آٹا اور دانے وغیرہ ڈال دیتے ہیں۔ان گھاٹوں پر جا کر دیکھو کہ ان اوقات میں جبکہ آٹا یا دانے ڈالے جاتے ہیں مچھلیاں اتنی کثرت سے پائی جاتی ہیں کہ تعجب آتا ہے اور اُس جگہ سے ہٹ کر یا دوسرے اوقات میں دیکھو تو مچھلیاں نظر ہی نہیں آتیں۔بائبل میں سبت کے متعلق یہود کی بعض نافرمانیوں کا ذکر بائبل میں بھی سبت کے متعلق یہود کی بعض نافرمانیوں کا ذکر آتا ہے۔نحمیاہ باب ۱۳ میں لکھا ہے: ’’ اُنہی دنوں میں مَیں نے کتنوں کو دیکھا جو سبت کے دن انگوروں کو کولہوؤں میں کچلتے ہیں اور پوُلے باندھتے اور گدھے لادتے ہیں۔اسی طرح مَے اور انگور اور انجیر اور سارے بوجھ دیکھے جنہیں وَے سبت کے دن یروشلم میں لائے اور جس دن وے سیدھا بیچنے لگے اُن کی بدی اُن پر جتائی اور وہاں صور کے لوگ بھی ٹکتے تھے جو مچھلی اور ہر طرح کی چیزیں لا کے سبت کے دن یہوداہ اور یروشلم کے لوگوں کے ہاتھ بیچتے تھے۔‘‘ (آیت ۱۵،۱۶) سبت کی بے حرمتی کا ذکر یرمیاہ باب ۱۷۔آیت ۱۹ تا ۲۷۔اور حزقی ایل باب ۲۲ آیت ۸ میں بھی آتا ہے۔كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـِٕيْنَکی تفسیر قرآن مجید کی دوسری آیات کے پیش نظر اس آیت کے معنے کرنے میں بعض مفسّرین نے دھوکا کھایا ہے اور قِرَدَۃ کے لفظ سے جس کے معنی بندر کے ہیں یہ سمجھا ہے کہ اس آیت میں سبت کے حکم کی نافرمانی کرنے والی قوم کے بندر بن جانے کی خبر دی گئی ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں۔کیونکہ قرآن کریم میں یہ واقعہ اِس جگہ کے علاوہ دو ۲ اور جگہ پر بھی بیان کیا گیا ہے اور ان دونوں مقامات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ درحقیقت بندر نہ بنے تھے بلکہ بندر کا لفظ تشبیہ ا ورمثال کے لئے آیا ہے۔چنانچہ سورۂ مائدہ آیت ۶۱،۶۲ میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَيْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِيْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ۔وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ۔(المائدة:۶۲،۶۱) یعنی ان لوگوں سے کہہ دے کہ کیا مَیں تم کو اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اس جماعت سے زیادہ بُری جزا پانے والی جماعت کی خبر دُوں۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر اﷲتعالیٰ نے لعنت کی اور اُن پر غضب کیا اور اُن میں سے ایک جماعت کو بندر اور سؤر بنا دیا اور جو