تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 166
عیسائیوں پر پڑتا ہے۔اسلام نے جمعہ کے دن کے لئے یہ خصوصیّتیں مقرر فرمائی ہیں۔اُس دن چھٹی رکھی جائے۔عبادت زیادہ کی جائے اُسے قومی اجتماع کا دن بنایا جائے۔نہایا دھویا جائے۔صفائی کی جائے۔مریضوں کی عیادت کی جائے۔اسی طرح اور قومی اور تمدّنی کام کئے جائیں۔ہاں جمعہ کی نماز سے فراغت کے بعد اجازت دی گئی ہے کہ لوگ اپنے مشاغل میں لگ جائیں مگر زیادہ مناسب اسی کو قرار دیا ہے کہ بعد میں بھی وہ ذکر الٰہی میں مشغول رہیں۔سبت کی بے حرمتی کی سزا میں مسلمانوں کے لئے عبرت افسوس ہے کہ مسلمانوں نے بھی سبت کی قدر نہیں جانی اور جمعہ کی نماز سوائے بڑے شہروں کے ایک عرصہ تک ہندوستان سے بالکل مٹی رہی۔اب کچھ کچھ اس طرف توجہ ہے مگر اب بھی سَو میں سے ایک مسلمان صرف جمعہ کی نماز بھی ادا کرنے کے لئے تیار نہیں اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔گورنمنٹ نے بصد مشکل بانی ء سلسلہ احمدیہ کے میموریل اور جماعت احمدیہ کی کوششوں کے بعد جمعہ کی نماز کے لئے ایک گھنٹہ کی چھٹی منظور کی ہے مگر افسوس کہ مسلمان اب بھی اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے اور بعض جگہ پر تو دوسرے مسلمان صاف طور پر گورنمنٹ کے افسروں سے کہہ دیتے ہیں کہ جمعہ کی نماز کے لئے چھٹی کی درخواست محض احمدیوں کی شرارت ہے ہم لوگ اس میں شامل نہیں۔عیسائیوں میں اب پھر یہ تحریک شروع ہے کہ اتوار کی جگہ ہفتہ کو سبت منایا جائے۔یہ لوگ سیونتھ ڈے ایڈونٹس(Seventh day Advents)کہلاتے اور اتوار کی بجائے ہفتہ کو سبت مناتے ہیں۔سبت کے دن یہودیوں کی نافرمانیاں کرنے کا ذکر قرآن مجید میں اِس آیت میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں نے سبت کے دن زیادتیاں کیں۔وہ زیادتیاں کیا تھیں۔اس کا جواب خود قرآن کریم میں ہی مذکور ہے۔اﷲتعالیٰ فرماتا ہے۔وَ سْـَٔلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ يَوْمَ لَا يَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِيْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۔(الاعراف : ۱۶۴)یعنی اُن سے پوچھ اُس بستی کی نسبت جو سمندر کے کنارے پر تھی جبکہ وہ زیادتی کیا کرتے تھے سبت کے متعلق۔اُس وقت کہ ان کی مچھلیاں اُن کے سبت کے دن سامنے آ جاتی تھیں اور جس دن سبت نہ ہوتا تھا سامنے نہ آتی تھیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی لوگ تجارتی فوائد کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہفتہ کو مچھلیاں پکڑ لیا کرتے تھے اس آیت میں یہ جو بیان کیا گیا ہے کہ ہفتہ کے دن مچھلیاں زیادہ آتی تھیں یہ کسی غیر معمولی معجزے کا ذکر نہیں جیسا کہ بعض مفسّرین نے سمجھا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ بعض مخیّرلوگوں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے مقدّس ایّام میں