تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 165

لیا۔اگر خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایسا ہوتا تو یہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہ تھی مگر یہ جو کچھ ہوا خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت نہیں ہوا۔اپنی مرضی سے اور حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے سینکڑوں سال بعد ہوا۔حضرت مسیح ناصری ؑ خود سبت کا احترام کیا کرتے تھے۔گو یہودیوں میں جو غلو سبت کے متعلق پیدا ہو گیا تھا اس کے وہ مخالف بھی تھے چنانچہ وہ فرماتے ہیں ’’ سبت کا دن انسان کے واسطے ہوا نہ انسان سبت کے دن کے واسطے‘‘ (مرقس باب۲ آیت ۲۷) اس کے یہی معنی ہیں کہ اگر حقیقی ضرورتیں پیش آ جائیں تو اُس میں سبت کے تفصیلی احکام کا لحاظ نہیں رکھا جا سکتا اور نہ دین کے کاموں کو سبت روک سکتا ہے۔یہودیوں میں یہ بیہودہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ سبت کے دن تبلیغ کرنی، وعظ کرنا اور دوسرے نیکی کے کام کرنے بھی ناجائز ہیں حالانکہ سبت کے دن تو صرف دنیوی کاموں سے روکا گیا تھا۔انجیل میں سبت منانے کا حکم اور عیسائیوں کا اس کی خلاف ورزی کرنا ابتدائی ایّام میں عیسائی اقوام برابر سبت کا دن مناتی چلی آئی ہیں ( دیکھو انسائیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ Sabathاور جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Sabath and Sunday) ہاں حواریوں کے زمانہ سے ہی غیر یہودی قوموں میں اتوار کا احترام بھی جو کہ آرین نسلوں کا مقدس دن ہے ساتھ ساتھ جاری تھا چنانچہ پولوس نے قُرنتیوں کے نام جو پہلا خط لکھا اُس میں تحریر ہے کہ : ’’ ہر ہفتہ کے پہلے دن ( یعنی اتوار کو) تم میں سے ہر کوئی اپنی آمدنی کے موافق جہاں تک فائدہ اُٹھایا کچھ جمع کر کے اپنے پاس رکھے تاکہ جب میں آؤں تو چندہ کرنا نہ پڑے۔‘‘ (باب ۱۶ آیت ۲) اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اتوار کے دن وہ لوگ چھٹی کیا کرتے تھے۔اسی طرح اعمال باب ۲۰ میں پولوس کے ذکر میں لکھا ہے ’’ اور ہفتہ کے پہلے دن (اتوار کو) جب شاگرد روٹی توڑنے کو اکٹھے آئے پولس نے کہ دوسرے دن جانے کو تھا ان کے ساتھ کلام کیا اور اپنا کلام آدھی رات تک بڑھایا۔‘‘ ( آیت ۷) اس حوالہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ غیر یہودی قوموں کے اجتماع عام طور پر اتوار کے دن ہوا کرتے تھے شائد اس لئے کہ وہ اُن کی قومی چھٹی کا دن تھا۔آج کل بھی جہاں جہاں مسلمان انگریزی حکومت کے ماتحت ہیں اُنہیں اپنے جلسے اتوار کے دن کرنے پڑتے ہیں کیونکہ یہی چھٹی کا دن ہے۔بعض مصنّفین لکھتے ہیں کہ اتوار کے دن عیسائیوں نے سبت کا منانا اس لئے شروع کیا تاکہ غیر یہودی قوموں میں اُن کی مخالفت نہ پیدا ہو۔بر نباس کے خط میں لکھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مسیح اس دن مُردوں میں سے جی اُٹھے تھے۔( جیوش انسا ئیکلو پیڈیا زیر لفظ Sabath and Sunday) بہرحال کوئی وجہ بھی ہو یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف تھا۔اسلام نے بھی سبت کا ایک دن مقرر فرمایا ہےاور وہ جمعہ کا دن ہے۔جمعہ کا دن کسی قیاس کے مطابق مسلمانوں نے مقرر نہیں کیا بلکہ اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مقرر کیا ہے اس لئے ان پر وہ اعتراض نہیں پڑتا جو