تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 164
سبت جس کا عبرانی لہجہ ثبات ہے اس کے معنے عربی کی طرح (دیکھو حَلِّ لُغَات ) عبرانی میں بھی آرام کے ہیں۔اس کے علاوہ اس کے معنی عبرانی زبان میں قطع کرنے اور ختم کرنے کے بھی ہیں۔(انسا ئیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ SabathنیزHEBREW AND ENGLISH LAXICON OF THE OLD TESTAMENT ) اور عربی زبان میں بھی یہ معنے پائے جاتے ہیں۔کہتے ہیں۔سَبَتَ الشَّیْ ءَ قَطَعَہٗ اس چیز کو کاٹا۔سَبَتَ رَأْسَہٗ حَلَقَہٗ۔اس کا سرمونڈا۔عبرانی زبان کے واقفوں کا عام طور پر خیال یہ ہے کہ ہفتے کے دن کا نام سبت آرام کی وجہ سے نہیں رکھا گیا۔بلکہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ وہ اُس ہفتہ کے کام کو ختم کرتاہے۔پُرانی بابلی زبان میں سَبَۃً دعائے توبہ کو کہتے تھے اس لئے بعض (جیبسن) کے نزدیک یہ اسی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ توبہ اور دعا کا دن ہے۔(انسا ئیکلو پیڈیا ببلیکا جلد ۴ کالم نمبر۴۱۷۳) جیسا کہ بائبل کے حوالہ سے ظاہر ہے سبت کا دن غلاموں، ملازموں اور قبیلہ کے لوگوں کو آرام دلانے اور عبادت کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔یہ دونوں حکمتیں نہایت اہم ہیں اور یقیناً اس قابل ہیں کہ ان کو مدّ نظر رکھا جائے۔یہودیوں میں سبت ہفتہ کو منایا جاتا تھا اور بائبل سے ہفتہ کا دن ہی اِس بات کے لئے ثابت ہے ( اس لئے سبت کے معنے ہی ہفتہ کے دن کے ہو گئے ورنہ اصل معنے سبت کے یہی ہیں کہ جس دن روز مرّہ کے کام چھوڑ دیئے جائیں اور اس وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ بنو اسرائیل کا سبت ہفتہ کو ہوتا ہے اور مسلمانوں کا جمعہ کو) کیونکہ لکھا ہے جمعہ کے دن خدا تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کرنے کا کام ختم کیا اور ہفتہ کے دن آرام کیا اور اسی کی یاد میں یہودیوں کو سبت منانے کا حکم دیا چنانچہ آتا ہے ’’ خداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین، دریا اور سب کچھ جو اُن میں ہے بنایا اور ساتویں دن آرام کیا اس لئے خداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدّس ٹھہرایا۔‘‘ ( خروج باب ۲۰ آیت ۱۱ نیز دیکھو پیدائش باب ۲ آیت ۲ تا ۵) عیسائیوں کا ہفتہ کے دن کی بجائے اتوار کو چھٹی کا دن منانے کی وجہ عیسائیوں نے بھی سبت کی اہمیت کو تو تسلیم کیا ہے لیکن اس کے لئے اتوار کا دن قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض یوروپین اقوام اور بادشاہوں نے جب عیسائیت کی طرف رغبت ظاہر کی تو انہوںنے اپنے عیسائی ہونے کی ایک شرط یہ رکھی کہ چھٹی کا دن اتوار قرار دیا جائے اور ان لوگوں کو عیسائی بنانے کے لالچ میں پادریوں نے اُن کی اس دعوت کو قبول کر لیا اور اس طرح سبت کی بے حُرمتی میں وہ یہود سے بھی بڑھ گئے کیونکہ یہود تو سبت کے دن کبھی کبھی کوئی فائدے کا کام کر لیا کرتے تھے لیکن عیسائیوں نے ہفتہ کو ہمیشہ کے لئے کام کا دن قرار دے دیا اور آرام کے دن کے لئے اتوار کو چن