تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 154

اَلطُّوْرُ۔اَلْـجَبَلُ طوُر کے معنے پہاڑ کے ہیں جَبَلٌ قُرْبِ اَیْلَۃَ یُضَافُ اِلٰی سَیْنَاءَ نیز ایک مخصوص پہاڑ کا نام بھی طور ہے جو طورِ سیناء کے نام سے مشہور ہے۔(اقرب) اُذْکُرُوْا۔امر حاضر جمع کا صیغہ ہے اور ذَکَرَ الشَّیْءَکے معنے ہیں حَفِظَہٗ فِیْ ذِھْنِہٖ کسی چیز کو اپنے ذہن میں یاد کر لیا۔اُذْکُرُوْا امر حاضر جمع کا صیغہ ہے اور ذَکَرَ الشَّیْ ءَ (یَذْکُرُ ذِکْرًا وَ تَذْ کَارًا) کے معنے ہیں حَفِظَہٗ فِیْ ذِھْنِہٖکسی چیز کو اپنے ذہن میں یاد کر لیا اور جب ذَکَرَ الشَّیْ ءَ بِلِسَانِہٖ کہیں تو معنے ہوں گے قَالَ فِیْہِ شَیْئًا کہ اس نے کسی بات کے متعلق اپنی زبان سے کچھ کہا۔اور ذَکَرَ لِفُلَانٍ حَدِیْثًا کے معنے ہیں قَالَہٗ لَہٗ کوئی بات بیان کی جب ذَکَرَ مَا کَانَ قَدْنَسِیَ کا فقرہ بولیں تو اس کے معنے ہوںگے فَطَنَ بِہٖ کسی بھولی ہوئی بات کی یاد تازہ ہو گئی۔(اقرب) امام راغب لکھتے ہیں اَلذِّکْرُ تَارَۃً یُقَالُ وَیُرَادُ بِہٖ ھَیْئَۃٌ لِلنَّفْسِ بِھَا یُمْکِنُ لِلْاِنْسَانِ اَنْ یَّحْفَظَ مَا یَقْتَنِیْہِ مِنَ الْمَعْرِفَۃِ کہ ذکر کا لفظ بول کر کبھی نفس کی وہ ہیئت مراد لی جاتی ہے جس کے ذریعہ سے انسان کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ معلوم شدہ باتوں کو یاد رکھ سکے وَھُوَ کَا لْحِفْظِ اِلَّا اَنَّ الْحِفْظَ یُقَالُ اِعْتِبَارًا بِـاِحْرَازِہٖ وَالذِّکْرُ یُقَالُ اِعْتَبَارًا بِـاِسْتِحْضَارِہٖ۔اور ان مذکورہ بالا معنوں میں ذکر کا لفظ حفظ کے لفظ کے ہم معنی ہے۔ہاں حفظ اور ذکر ہر دو کے مفہوم میں تھوڑا سا امتیاز ہے۔حفظ کسی شخص کے یاد کرنے پر اس وقت بولیں گے جب وہ ذہن میں بعض باتوں کو جمع کرتا چلا جائے اور ذکر اس کے اس طور پر یاد رکھنے کو کہیں گے کہ اس کو وہ باتیں ُمستحضر رہیں اور جب چاہے انہیں استعمال کر لے وَتَارَۃً یُقَالُ لِحَضُوْرِ الشَّیْ ءِ الْقَلْبَ اَوِالْقَوْلَ اور کبھی دل میں کسی امر کا خیال لانے یا زبان پر کسی بات کے لانے کا نام ذکر رکھا جاتا ہے وَلِذٰ لِکَ قِیْلَ اَلذِّکْرُ ذِکْرَانِ ذِکْرٌ بِالْقَلْبِ وَ ذِکْرٌ بِاللِّسَانِ اسی لئے کہتے ہیں کہ ذکر دو۲ طرح ہوتا ہے (۱) قلبی ذکر (۲) زبانی ذکر۔وَکُلُّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا ضَرْبَانِ ذِکْرٌ عَنْ نِسْیَانٍ وَ ذِکْرٌ لَاعَنْ نِسْیَانٍ بَلْ عَنْ اِدَامَۃِ الْحِفْظِ کہ خواہ قلبی ذکر ہو یا قولی ہر دو۲ کی دو۲ دو۲ قسمیں ہیں (۱) بھول جانے کے بعد کسی بات کا یاد کرنا (۲) یا بغیر بھولنے کے یاد رکھنا (مفردات) پس اُذْکُرُوْا کے معنے ہوں گے۔تم یاد کرو۔بعض نے اُذْکُرُوْا مَافِیْہِ کے معنے اُدْرُسُوْا مَافِیْہِ کے بھی کئے ہیں یعنی جو کچھ اس میں ہے اس کو پڑھو۔(لسان) لَعَلَّ۔کے لئے دیکھو حل لغات سورۃ بقرۃ آیت ۵۳ جلد ھذا۔تَتَّقُوْنَ۔اِتَّقٰی یَتَّقِیْ سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے۔اس کی مزید تشریح کے لئے دیکھیں حَلِّ لُغَات