تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 150

خدا تعالیٰ کا پیارا ہے اور جو خوف وحزُن سے محفوظ ہوتے ہوئے اس میں پڑ جائے وہ ضرور غلطی پر ہے۔مسیحی حکومتوں کا غلبہ اُن کے مذہب کے سچے ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتا اِس معیار پر کس مذہب کی صداقت ثابت ہوئی؟ اس کے جواب کے لئے ہمیں خود کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔اسلام کے مخالفین کی لکھی ہوئی تاریخیں ہی اس بات پر کافی روشنی ڈال رہی ہیں کہ ہجرت کے پہلے ایک دو سال کے اندر کہ جب یہ دعویٰ کیا گیا ہے اسلام کی کیا حالت تھی اور اس کے بعد چند سال میں ہی وہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور وہ مسلمان جو چاروں طرف سے دشمنوں کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے سطح زمین پر ٹڈی دل کی طرح پھیل گئے اور اُن کا خوف و حزُن امید اور خوشی سے بدل گیا اور ان کے دشمن جو پہلے سُکھ کی نیند سوتے تھے اور ملکوں کے حاکم تھے خوف و حُزن میں مُبتلا ہو گئے اور اس طرح خدا تعالیٰ کے فعل نے اس بات کی شہادت دے دی کہ مسلمانوں کی جماعت ہی وہ جماعت تھی جو واقعہ میں اﷲ تعالیٰ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتی تھی اور اعمالِ صالحہ بجا لاتی تھی ورنہ دوسرے مذاہب کے پیروؤں کا ایمان ایک رسمی ایمان تھا اور اُن کے اعمال اﷲ تعالیٰ کے پسندیدہ نہ تھے۔اِس معیار پر یہ اعتراض کرنا درست نہ ہو گا کہ اِس زمانہ میں مسیحی حکومتیں مسلمانوں پر غالب ہیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں مذہبی مقابلہ کے وقت اُس قوم کے خوف و حزُن سے نکلنے کا وعدہ کیا ہے جو واقعہ میں مومن اور اعمال صالحہ کو بجا لانے والی ہو اور اس زمانہ کے مسلمان بموجب حدیث نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اسلام سے برگشتہ ہو رہے ہیں اور انہوں نے قرآن کریم پر عمل چھوڑ دیا ہے اور ان کی اس وقت وہی حالت ہو رہی ہے جو بنی اسرائیل کی مسیح ناصری ؑ کے وقت میں تھی۔پس ان کا خوف و حزُن میں مبتلا ہونا بطور سزا ہے اور پیشگوئی کے مطابق ہے۔ہاں یہ بھی وعدہ ہے کہ جب یہ لوگ مسیح موعود کو قبول کر کے پھر اس آیت کا مصداق بن جائیں گے تو ہر قسم کے خوف و حزُن سے بچ جائیں گے اور اُن کے دشمن ان کے مقابلہ میں ذلیل ہوں گے لیکن یہ غلبہ جسمانی نہیں بلکہ رُوحانی اسباب سے حاصل ہو گا اور تلوار کی بجائے دلائل و براہین سے اسلام کو غالب کیا جائے گا چنانچہ وہ مسیح موعودؑ پیدا ہو چکا ہے اور اُسے اور اس کے پیروؤں کو اﷲ تعالیٰ خارق عادت نشانات سے خوف و حزُن سے بچاتا اور ان کے دشمنوں کو ان کے مقابلہ میں شرمسار کرتا ہے۔اس استدلال کا ردّ کہ صرف ایمان باللہ اور ایمان بیومِ آخر سے نجات ہو سکتی ہے اِس آیت کے معنے کرنے میں بعض لوگوں کو یہ دھوکا لگا ہے کہ چونکہ اِس جگہ صرف ایمان باﷲ اور ایمان بیومِ آخر کے ساتھ خوف و حزُن سے نجات کو وابستہ کیا ہے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم اس قوم کو جو اﷲ اور یومِ آخر پر ایمان لانے