تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 137

کرنے کا ارادہ کرتے یا اُن سے قطع تعلق کرتے یا اُن سے لڑتے جھگڑتے یا اُن کی تعلیم کے پھیلنے میں روک بنتے تھے اس وجہ سے وہ نیکی سے محروم ہوتے جاتے تھے اور گناہوں میں ترقی کرتے جاتے تھے اور یہ انبیاء کے مقابلہ کرنے کا گناہ ان سے اس لئے صادر ہوتا تھا کہ اُن کی طبیعتوں میں سے اعتدال کا مادہ جاتا رہا تھا۔جو شیلی طبیعتیں تھیں اور ہر بات میں حدّ سے نکل جانے کے عادی تھے۔جس کی طبیعت میں غصّہ اور جوش پیدا ہو جاتا ہے وہ بڑی سے بڑی نیکیوں سے محروم ہو جاتا اور بڑے سے بڑے گناہوں پر آمادہ ہو جاتا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِيْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـِٕيْنَ جو لوگ ایمان لائے ہیں۔اور جو یہودی ہیں۔نیز نصاریٰ اور صابی (ان میں سے )جو (فریق )بھی اللہ پر مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ اور آخرت کے دن پر (کامل )ایمان لایا ہے اور اس نے نیک عمل کئے ہیں یقیناً ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۰۰۶۳ کا( مناسب) اجر ہےاور انہیں نہ( تو مستقبل کے متعلق) کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ (ماضی پر) وہ غمگین ہوں گے۔حَلّ لُغَات۔اٰمَنُوْا: اٰمَنَ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اٰمَنَـہٗ اِیْمَانًا کے معنی ہیںاَمَّنَہٗ: اس کو امن دیا اور جب اس کا صلہ حرف باء ہو یعنی اٰمَنَ بِہٖ کہیں تو معنے ہوںگے صَدَّقَہٗ وَوَثَّقَ بِہٖ۔اس کی تصدیق کی اور اس پر اعتماد کیا اور جب اٰمَنَ کے بعد لام صلہ ہو یعنی اٰمَنَ لَـہٗ کہیں تو اس کے معنے ہوںگے خَضَعَ وَ انْقَادَ یعنی فرمانبرداری اختیار کی۔مطیع ہو گیا اور کہنا مان لیا (اقرب) اَلْاِیْمَانُ: اَلتَّصْدِیْقُ۔ایمان جو اٰمَنَ کا مصدر ہے اس کے معنے تصدیق کرنے کے ہیں۔(اقرب) تاج العروس میں ہے۔اَ لْاِیْمَانُ یَتَعَدَّی بِنَفْسِہٖ کَصَدَّقَ وَبِاللَّامِ بِـاِعْتبَارِ مَعْنَی الْاِذْعَانِ وَبِالْبَاءِ بِـاِعْتبَارِ مَعْنَی الْاِعْتِرَافِ اِشَارَۃً اِلَی اَنَّ التَّصْدِیْقَ لَایُعْتَبَرُ بِدُوْنِ اِعْتِرَافٍ۔کہ لفظ ایمان کبھی بغیر صلہ کے استعمال ہوتا ہے اور کبھی اس کا صلہ لام آتا ہے اور اس میں اذعان یعنی فرمانبرداری کے معنے ملحوظ ہوتے ہیں۔اور جب باء کے صلہ کے ساتھ استعمال ہو تو اس وقت اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ ایمان کے معنے تصدیق کے ہیں اور تصدیق کے ساتھ اعتراف بھی ہوتا ہے اس لئے اس کو اعتراف کے معنے