تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 136
کرنے کے یہ بھی ہیں اوّل قَتَلَہُ اللہُ اﷲ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی۔(لسان) دوم۔اُقْتُلُوْا فُـلَانًا۔اس سے اعراض کرو۔(لسان) سوم۔فُـلَانٌ قَتَلَہٗ۔مِنَ الْقَتَالِ۔قَتَالٌ سے نکلا ہے جس کے معنے اَلْجِسْمُ کے ہیں اور مراد یہ ہے کہ اَصَابَ قَتَالَہٗ اس کے جسم کو چھؤا یعنی مارا۔(اقرب) چہارم۔کہتے ہیں فُـلَانٌ قَاتِلُ الشَّتَوَاتِ (لسان ) فلاں شخص سردیوں کا قتل کرنے والا ہے یعنی غریبوں کو کپڑے دے کرسردی کا اثر دُور کرتا ہے۔پانچویں کہتے ہیں قَتَلَہُ الْعِشْقُ۔عشق نے اس کو مار ڈالا۔یعنی اس کی زندگی خراب کر دی اور اس کو دُکھ میں ڈال دیا (لسان) پس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ نبیوں کو تلوار سے قتل کرتے تھے کیونکہ موسیٰ ؑکے زمانہ تک کسی نبی کو بنی اسرائیل نے قتل نہیں کیا تھا۔پس اس جگہ پر قتل کرنے سے مراد یہ ہو گی کہ وہ نبیوں کو پیٹتے تھے یا ان سے بے تعلّقی کا اظہار کرتے تھے یا یہ کہ ان کے کام کو باطل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔قرآن شریف میں بھی قتل کا لفظ مار دینے کے سِوا اَور معنوں میں استعمال ہوا ہے چنانچہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے متعلق آتا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ يَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ يَقْتُلُوْنَ الَّذِيْنَ يَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۔(آل عمران :۲۲ ) چونکہ یہ آیت رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے متعلق ہے اس لئے اس کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر حملے کرتے تھے یا قتل کرنے کی کوشش کرتے تھے یا آپؐ کے کام میں روک ڈالتے تھے کیونکہ نہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو انہوں نے قتل کیا اور نہ وہ ایسا کر سکتے تھے۔ایک اور جگہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ(المومن :۲۹) یعنی آل فرعون میں سے ایک ایسا شخص جو موسیٰ ؑپر ایمان لایا تھا لیکن اپنا ایمان چھپا کر رکھتا تھا اُس نے فرعون اور اس کے ساتھیوں سے کہا۔کیا تم ایک ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ اﷲ میرا رب ہے حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے بڑے بڑے نشانات لایا ہے۔ظاہر ہے کہ فرعون یا اس کے ساتھیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔زیادہ سے زیادہ ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا۔يَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ کے معنے پس يَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ کے معنے قتل کا ارادہ کرنے کے بھی ہو سکتے ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل چونکہ اﷲ تعالیٰ کے نشانوں کا انکار کرتے تھے اور اﷲ کے نبیوں موسیٰ ؑاور ہارون ؑ کو قتل