تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 128
عَلٰی ہو تو اس کے معنے کسی امر پر ثابت قدم رہنے کے ہوتے ہیں اور جب اس کا صلہ عَنْ ہو تو اس کے معنے کسی چیز سے رُکنے یا کسی کو اس سے روک دینے کے ہوتے ہیں۔(اقرب) پس صَبْرٌ کے معنے (۱) بدیوں سے رُکتے رہنا اور نیکیوں پر ثابت قدم رہنا۔(۲) خدا تعالیٰ کے راستہ میں تکلیف پر جزع فزع نہ کرنا۔پس لَنْ نَصْبِرَ کے معنے ہوں گے ہم ثابت قدمی نہیں دکھا سکیں گے۔طَعَامٍ۔اِسْمٌ لِمَا یُوْکَلُ کَا لشَّرَابِ لِمَا یُشْرَبُ عربی زبان میں ہر اس چیز کو جو خوراک کا کام دے، طعام کہتے ہیں جیسے ہر پینے کی چیز کو شَرَاب کہتے ہیں وَقَدْ غَلَبَ الطَّعَامُ عَلَی البُرِّ ِّ اور زیادہ تر طعام کا لفظ گندم پر بولا جاتا ہے۔وَرُبَّمَا اُطْلِقَ عَلَی الْحُبُوْبِ کُلِّھَا اور کئی دفعہ جملہ اقسام کے غلّوں پر طعام کا لفظ بول دیتے ہیں۔طَعَامٌ کی جمع اَطْعِمَۃٌ آتی ہے اور جمع الجمع اَطْعِمَاتٌ آتی ہے۔(اقرب) بَقْلٌ۔اَلْبَقْلُ: مَایَنْبُتُ فِیْ بِزْرِہٖ لَا فِیْ اَرُوْمَۃٍ ثَابِتَۃٍ۔بقل ان سبزیوں کو کہتے ہیں جو اپنے بیجوں میں نشوونما پاتی ہیں اور خوراک حاصل کرنے کے لئے ان کی لمبی چوڑی جڑھیں نہیں ہوتیں۔وَ قَالَ ابْنُ فَارِسٍ کُلُّ مَا اخْضَرَّتْ بِہِ الْاَرْضُ ابن فارس کہتے ہیں کہ ایسا سبزہ جس سے زمین ہری بھری نظر آتی ہے، بقل کہلاتا ہے۔وَالْفَرْقُ مَا بَیْنَ الْبَقْلِ وَ دِقِّ الشَّجَرِ اَنَّ الْبَقْلَ اِذَا رُعِیَ لَمْ یَبْقَ لَہٗ سَاقٌ وَ الشَّجَرُ تَبْقَ لَہٗ سُوْقٌ وَ اِنْ دَقَّتْ۔اور بقل اور چھوٹے چھوٹے پودوں میں یہ فرق ہے کہ بقل کو جب جانور چر جائیں تو اس کی ٹہنی باقی نہیں رہتی لیکن پودوں کی ٹہنیاں کچھ نہ کچھ باقی رہ جاتی ہیں (تاج ) لسان میں ہے اَلْبَقْلُ مِنَ النَّبَاتِ مَا لَیْسَ بِشَجَرٍ دِقٍّ وَ لَاجِلٍکہ چھوٹے یا بڑے درختوں کے علاوہ جو نباتات اور سبزی ہوتی ہے اس کو بقل کہتے ہیں۔(لسان العرب) قِثَّائِھَا۔اَلْقِثَّاءُ نَوْعٌ مِنَ الْفَاکِھَۃِ یُشْبِہُ الْخِیَارَ تُسَمِّیْہِ عَوَامُنَابِالْمَقْتِیْ یعنی قِثَّاءٌ ایک پھل کا نام ہے جو کھیرے کی طرح ہوتا ہے عوام الناس اسے ککڑی کہتے ہیں۔(اقرب) فُوْمِھَا۔اَلْفُوْمُ لُغَۃٌ فِی الثُّوْمِ۔ثُوم جسے اُردو میںلہسن کہتے ہیں اس کے مترادف لفظ عربی میں فُوم ہے اس کا مفرد فُوْمَۃٌ آتا ہے۔نیز اَلْفُوْمُ کے معنی ہیں اَلْحِنْطَۃُ گندم۔اَلْحِمَّصُچنے اَلْخُبْزُروٹی وَسَائِرُ الْحُبُوْبِ الَّتِیْ تُخْبَزُ تمام غلّے جن سے روٹی بناتے ہیں۔السُّنْبُلَۃُ غلّہ کی بالی۔(اقرب) أَتَسْتَبْدِلُوْنَ۔تَسْتَبْدِ لُوْنَ اِسْتَبْدَ لَ سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور اِسْتَبْدَ لَہٗ وَ اِسْتَبْدَ لَہٗ بِہٖ کے معنے ہیں ایک چیز کے بدلے دوسری چیز لے لی لیکن جس لفظ پر ب آئے وہ دی جاتی ہے اور جس پر ب نہ آئے وہ لی جاتی ہے (اقرب) پس اَتَسْتَبْدِ لُوْنَ الَّذِیْ ھُوَ اَدْنٰی بِالَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ کے معنے ہوں گے کیا تم اچھی چیز