تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 127

بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ غضب کا مورد بن گئے۔یہ اس وجہ سے( ہوا) کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ يَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا اور نبیوں کو ناحق قتل کرنا چاہتے تھے (اور) یہ( گناہ)ان کی نافرمانی کرنے اور حد سے بڑھے ہوئے ہونے عَصَوْا وَّ كَانُوْا يَعْتَدُوْنَؒ۰۰۶۲ کے سبب سے (ان میں پیدا ہو گیا)تھا۔حَلّ لُغَات۔لَنْ نَصْبِرَ۔صَبَرَ (یَصْبِرُ) سے مضارع منفی متکلّم مع الغیر کا صیغہ ہے اور صَبَرْتُ نَفْسِیْ عَلٰی کَذَا کے معنے ہیں حَبَسْتُہَا کہ مَیں نے فلاں بات پر ثابت قدمی دکھائی (اقرب) تاج العروس میں ہے کہ ’’ بَصَائِر‘‘کے مصنّف کہتے ہیں۔صَبْرٌ کے لغوی معنے روکنے اور رُکنے کے ہیں اور جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں نے صبر کیا تو اس کے معنے ہوتے ہیں حَبْسُ النَّفْسِ عَنِ الْجَزْعِ وَ حَبْسُ الِلّسَانِ عَنِ الشَّکْوٰی وَ حَبْسُ الْجَوَارِحِ عَنِ التَّشْوِیْشِ نفس پر گھبراہٹ پیدا ہونے کے وقت قابوپائے رکھنا۔زبان کوشکویٰ کرنے سے روکے رکھنا اور دیگر اعضاء سے تشویش کا اظہار نہ ہونے دینا ( تاج ) صَبْر کے معنی ہیں تَرْکُ الشِّکْوٰی مِنْ اَلَمِ الْبَلْوٰی لِغَیْرِ اللّٰہِ لَا اِلَی اللّٰہِ کہ مصیبت کے دُکھ کا شکوہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کے پاس نہ کرنا فَاِذَا دَعَا اللّٰہَ الْعَبْدُ فِیْ کَشْفِ الضُّرِّ لَا یُقْدَحُ فِیْ صَبْرِہٖ اگر بندہ اپنی رفع مصیبت خدا تعالیٰ کے پاس فریاد کرے تو اس کے صبر پر اعتراض نہ کیا جائے۔کُلّیات ابی البقاء میں لکھا ہے کہ اَلصَّبْرُ فِی الْمُصِیْبَۃِ کہ صبر مصیبت کے وقت ہوتا ہے وَصَبَرَ الرَّجُلُ عَلَی الْاَمْرِ نَقِیْضُ جَزِعَ اَیْ جَرُؤَ وَ شَجُعَ وَتَجَلَّدَ اور صبر جزع یعنی شکوہ کرنے اور گھبرانے کے مقابل کا لفظ ہے اور صبر کے معنے ہوتے ہیں دلیری دکھائی جرأت دکھائی ہمت دکھائی اور صَبَر عَنِ الشَّیْ ءِ کے معنے ہیں اَمْسَکَ عَنْہُ کسی چیز سے رُکا رہا۔صَبَرَ الدَّابَۃَ حَبَسَہَا بِلَا عَلَفٍ اور جب صَبَرَ کا مفعول دَآبۃ کا لفظ ہو تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ جانور کو چارہ نہ دیا نیز کہتے ہیں صَبَرْتُ نَفْسِیْ عَلٰی کَذَا۔حَبَسْتُھَا کہ میں نے فلاں بات پر ثابت قدمی دکھائی چنانچہ محاورہ ہے صَبَرْتُ عَلٰی مَا اَکْرَہُ وَ صَبَرْتُ عَمَّا اُحِبُّ یعنی جب صَبَرَ کا صلہ