تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 9

یُرِیْدُوْنَ الْوَقْتَ الْحَاضِرَ (لسان العرب) یعنی جب کہتے ہیں کہ میں آج کے دن اس اس طرح کروں گا۔تو اس سے مراد چوبیس گھنٹہ والا دن نہیں ہوتا۔بلکہ اس سے مراد صرف موجودہ وقت ہوتا ہے۔اسی طرح اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ جو قرآن کریم میں آتا ہے۔اس سے بھی مُراد معروف دن نہیں بلکہ زمانہ اور وقت مراد ہے۔(لسان العرب) پھر لکھا ہے وَقَدْ یُرَادُ بِالْیَوْمِ اَلْوَقْتُ مُطْلَقًا وَمِنْہُ الحَدِیْثُ تِلْکَ اَیَّامُ الْھَرَجِ اَیْ وَقْتُہٗ (لسان العرب) یعنی کبھی یوم سے مطلق وقت مراد ہوتا ہے جیسے حدیث میں ہے کہ یہ دن فتنہ اور لڑائی کے دن ہیں۔مراد یہ کہ یہ فتنہ اور لڑائی کا زمانہ ہے۔لَا تَجْزیْ۔جَزٰی سے مضارع منفی واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور اَلْجَزَاءُ (جو جَزٰی کا مصدر ہے) کے معنے ہیں اَلْمُکَافَأَۃُ عَلَی الشَّیْ ءِ کسی بات پر کسی کو کوئی بدلہ دینا اور جب کہیں کہ جَزَی الشَّیْ ءُ تواس کے معنی ہوں گے کَفٰی ایک چیز دوسری چیز کی ساری باتوں میں قائم مقام ہو گئی اور پہلی چیز سے استغناء حاصل ہو گیا (قاموس) نیز کہتے ہیں جَزَیْتُ فُـلَا نًا حَقَّہٗ اور مطلب یہ ہوتا ہے قَضَیْتُہٗ کہ میں نے اس کے حق کو پورا کر دیا (لسان) وَتَاْتِیْ جَزٰی بِمَعنٰی اَغْنٰی اور جَزٰی کے معنے بعض اوقات اَغْنٰی کے ہوتے ہیں یعنی کوئی چیز دوسری چیز کے قائم مقام ہو گئی (لسان) پس لَاتَجْزِیْ نَفْسٌ کے معنے ہوں گے (۱) کوئی نفس قائمقام نہیں بن سکے گا۔(۲) کوئی شخص حقوق کو پورا نہیں کر سکے گا۔نَفْسٌ۔اَلنَّفْسُ کے معنے ہیں (۱) اَلرُّوْحُ۔رُوح۔(۲)اَلْجِسْمُ جسم۔(۳) وَیُرَادُ بالنَّفْسِ اَلشَّخْصُ وَالْاِنْسَانُ بِجُمْلَتِہٖ بعض اوقات نفس کا لفظ بول کر رُوح اور جسم کا مجموعہ انسان اور اس کا خاص تشخص مراد لیاجاتا ہے۔(۴) اَلْعَظْمَۃُ۔عظمت (۵) اَلْعِزَّۃُ عزت۔(۶) اَلْھِمَّۃُ ہمت۔(۷) اَ لْاِرَادَۃُ۔ارادہ(۸) اَلرَّأْیُ رائے۔(اقرب) شَفَاعَۃٌ۔شَفَعَ کا مصدر ہے۔شَفَعَ کا دوسرا مصدر اَلشَّفْعُ ہے۔اور أَلشَّفْعُ کے معنی ہیں ضَمُّ الشَّیْءِ اِلٰی مِثْلِہٖ ایک چیز کے ساتھ اس جیسی دوسری چیز ملا کر ان دونوں کو جمع کر دینا۔اور اَلشَّفَاعَۃُ کے معنے ہیں اَلِانْضِمَامُ اِلٰی اٰخَرَ نَاصِرً ا لَّـہٗ وَ سَائِـلًاعَنْہُ کسی شخص کا کسی شخص کے ساتھ اس کی مدد کرنے کی خاطر مل جانا اور اس سے حق کا مطالبہ کرنے والے سے التجا کرنا کہ قصور وار کے قصور کو معاف کر دے۔وَ اَکْثَرُ مَا یُسْتَعْمَلُ فِیْ اِنْضِمَامِ مَنْ ھُوَ اَعْلٰی حُرْمَۃً وَ مَرْتَبَۃً اِلٰی مَنْ ھُوَ اَدْنٰی اور شفاعت کے لفظ کا اکثر استعمال ایسے دو اشخاص کے ملنے پر ہوتا ہے جن میں سے ایک عزت و رتبہ کے لحاظ سے اعلیٰ مقام رکھتا ہو اور دوسرا ادنیٰ۔اور عزّت و رتبہ رکھنے والا