تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 115

بٹیروں کا گوشت کھائیں گے اور بٹیروں کا گوشت ملنے کو ایک انعام قرار دیتی ہے لیکن گنتی کی کتاب کہ وہ بھی موسیٰ کی ہی وحی کہلاتی ہے یہ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے گوشت نہیں کھایا بلکہ گوشت کھانے کا ارادہ کرنے پر ہی اُن پر عذاب آ گیا۔اب اِن بیانات میں کون تطبیق دے سکتا ہے اگر قرآن کریم خروج کے بیان کی تصدیق کرے تو پادری صاحبان کہیں گے کہ قرآن کریم نے چونکہ گنتی کے خلاف کہا ہے اس لئے قرآن کو تاریخ کاپتہ نہیں اور اگر وہ گنتی کے بیان کی تصدیق کرے تو پادری صاحبان کہیں گے کہ چونکہ قرآن نے خروج کے خلاف لکھا ہے اِس لئے قرآن کو بائبل کی تاریخ کا پتہ نہیں۔اور اگر وہ دونوں کے ہی مطابق بات کہے تو پھر اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جیسی غیر معقول تاریخ بائبل کی ہے ویسی ہی غیر معقول تاریخ ( نعوذ باﷲ ) قرآن کریم کی ہو جائے گی۔پس قرآن کریم نے گنتی اور خروج کے جھگڑوں میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔اﷲ تعالیٰ کے علم میں جو واقعات تھے وہ اس نے قرآن کریم میں بیان کر دیئے۔اگر بائبل کے بتائے ہوئے واقعات صحیح ہیں تو اس نے بائبل کی تصدیق کر دی۔اگر بائبل کے بتائے ہوئے واقعات غلط ہیں تو اس نے ان کی تردید کر دی اور اگر کوئی واقعہ عبرت کے لئے بیان کرنا ضروری تھا اوربائبل میں بیان نہیں ہوا تو اس نے بیان کر دیا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کو بائبل کے مصنّفین کے تتبعّ کی ضرورت نہیں۔فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِيْ قِيْلَ لَهُمْ پھر( ان کی شرارت کو دیکھو کہ) ان ظالموں نے اس بات کے خلاف جوانہیں کہی گئی تھی ایک اور بات بدل فَاَنْزَلْنَاعَلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا (کر کہنی شروع کر)دی جس پر ہم نے ان لوگوں پر جنہوں نے ظلم کیا تھا ان کے نافرمان ہونے کے كَانُوْا يَفْسُقُوْنَؒ۰۰۶۰ سبب سے آسمان سے ایک عذاب نازل کیا۔حَلّ لُغَات۔ظَلَمُوْا۔ظَلَمَ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور ظَلَمَ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغَات سورۃ ھٰذاآیت نمبر ۵۲۔رِجْزًا۔اَلرِّجْزُ کے معنے ہیں اَلْقَذْرُ گند۔عِبَادَۃُ الْاَوْثَانِ بتوں کی عبادت۔اَلْعَذَابُ۔عذاب