تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 109
وہ بعد کے کسی ناواقف مفسّرِ تورات کی جہالت کا نمونہ ہے جس نے اپنے غلط خیالات کو تورات میں شامل کر دیا ورنہ بات وہی ہے جو قرآنِ کریم نے بیان کی یعنی مَنّ بھی بطور انعام کے تھا اور سَلْوٰی بھی بطور انعام کے تھا۔وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ۔۔۔الخکی تشریح وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔اس میں یہ بتایا ہے کہ ان احسانات کی بھی انہوں نے ناقدری کی اور اس طرح ہمارے انعاموں کو ناشکری کے ذریعہ سے عذابوں کا موجب بنا لیا۔فرماتا ہے۔بنی اسرائیل ہمارے انعاموں کی ناشکری کر کے یہ سمجھا کرتے تھے کہ گویا انہوں نے خدا تعالیٰ کو کوئی نقصان پہنچا دیا ہے اور یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اﷲ تعالیٰ کو کسی نے کیا نقصان پہنچانا ہے۔جو اﷲ تعالیٰ کے حکموں کو توڑتا ہے وہ تو اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے اور جو اس کی نعمتوں کی ناقدری کرتا ہے وہ خود اپنے لئے نعمتوں کے دروازے بند کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے احکام کو چٹی سمجھنے کا نتیجہ یہ مصیبت دین کو سمجھ کر نہ ماننے والوں میں ہمیشہ پائی جاتی ہے۔آج مسلمانوں پر بھی یہی مصیبت آئی ہوئی ہے۔نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ،قربانی جتنے احکام ہیں وہ انہیں چٹیّ سمجھتے ہیں اگر ان احکام کو پورا کر لیتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ پر احسان کر دیا اور اگر ان احکام کو پورا نہیں کرتے تو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو خوب دھوکا دیا۔حالانکہ اﷲ تعالیٰ تو کسی چیز کا محتاج نہیں۔کسی کی نماز ، کسی کے روزے ، کسی کا حج،کسی کی زکوٰۃ اور کسی کی قربانی سے اسے کیا فائدہ۔یہ ساری باتیں تو ہمارے ہی فائدہ کے لئے ہیں۔نماز ہمارے فائدہ کے لئے ہے۔روزہ ہمارے فائدہ کے لئے ہے۔حج ہمارے فائدہ کے لئے ہے۔زکوٰۃ ہمارے فائدہ کے لئے ہے۔کسی چیزمیں ہمارے قلب کی اصلاح ہے۔کسی چیز میں ہمارے فکر کی اصلاح ہے۔کسی چیز میں ہمارے جسم کی اصلاح ہے۔کسی چیز میں ہمارے تمدّن کی اصلاح ہے۔کسی چیز میں ہماری قوم کی سیاست یا اقتصادیات کی اصلاح ہے۔پس ان احکام کو ماننے کے ساتھ ساتھ ہمارے دل میں خدا تعالیٰ کا شکر پیدا ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں سیدھا راستہ دکھایا اور کامیابی کی ترکیبیں بتائیں۔ہم مرتے اور تباہ ہوتے تو اُس کا کیا بگڑجاتا۔ہم بچ جائیں تو اس کا کیا سنور جاتا ہے مگر جہالت کا بُرا ہو وہ انسان کو ایسے رستوں پر چلاتی ہے جو عقل کے اور دانائی کے مخالف ہوتے ہیں مگر پھر بھی انسان ہیں کہ اُس پر چلے جاتے ہیں۔حصہ ٔ آیت وَمَاظَلَمُوْنَا میں بنی اسرائیل کی من و سلوٰی کے متعلق نافرمانیاں کرنے کا ذکر اور اس کی تائید بائبل سے اس حصہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے مَنّ و سَلْوٰی کے متعلق بھی کچھ نافرمانیاں کی تھیں۔سَلوٰی کا مضمون تو جیسا کہ مَیں نے بتا دیا ہے بائبل میں بالکل خبط ہو گیا ہے مگر مَنّ کے