تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 98
جب بَعَثَہٗ عَلَی الشَّیْ ءِ کہیں تو اس کے معنی ہوں گے حَمَلَہٗ عَلٰی فِعْلِہٖ اس کو کسی کام کے کرنے پر آمادہ کیا جب بَعَثَ کے فعل کو اﷲ تعالیٰ کی طرف منسوب کریں اور کہیں کہ بَعَثَ اللہُ الْمَوْتٰی تو اس کے معنے ہوں گے اَحْیَاھُمْ اﷲ تعالیٰ نے مرُدوں کو زندہ کیا اور اَلْبَعْثُ کے معنے ہیں اَلنَّشْرُ اُٹھانا (اقرب) پس بَعَثْنٰـکُمْ کے معنے ہوں گے ہم نے تم کو اُٹھایا۔مَوْتِکُمْ۔اَ لْمَوْتُ۔زَوَالُ الْحَیَاۃِ عَنْ مَّنْ اِتَّصَفَ بِھَا۔اس چیز سے زندگی کا علیحدہ ہو جانا جو زندگی کے ساتھ متصف ہو (اقرب)مفردات میں ہے۔اَلْمَوْتُ زَوَالُ الْقُوَّۃِ الْـحَیَوَانِیَّۃِ وَاِبَانَۃُ الرُّوْحِ عَنِ الْجِسْمِ۔قوت حیوانیہ اور رُوح کا جسم سے علیحدہ ہو جانا موت کہلاتا ہے۔اَنْوَاعُ الْمَوْتِ بِحَسْبِ الْحَیٰوۃِ۔موت کئی قسم کی ہوتی ہے جس قسم کی زندگی ہو گی اسی کے مطابق موت ہو گی۔(۱) فَالْاَوَّلُ مَاھُوَ بِـاِزَاءِ الْقُوَّۃِ النَّامِیَّۃِ الْمَوْجُوْدَۃِ فِی الْاِنْسَانِ وَالْحَیَوَانَاتِ وَالنَّبَاتِ۔انسان۔حیوانات اور نباتات میں نشوونما کا رُک جانا موت کہلاتا ہے جیسے يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الرّوم :۲۰) میں اشارہ فرمایا ہے (۲) اَلثَّانِیْ ، زَوَالُ الْقُوَّۃِ الْحَاسَّۃِ احساس کا زوال بھی موت کہلاتا ہے جیسے حضرت مریم علیھا ا لسلام کا قول يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا (مریم :۴ ۲) ہے کہ اے کاش میں اس سے پہلے کی بے حس ہو چکی ہوتی (۳) زَوَالُ الْقُوَّۃِ الْعَاقِلَۃِ زوال عقل یعنی جہالت بھی موت کہلاتی ہے جیسے اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ (الانعام :۱۲۳) (۴) اَلرَّابِعُ الْحُزْنُ الْمُکَدِّرَۃُ لِلْحَیٰوۃِ۔ایسے غم جو زندگی کو دوبھر کر دیں جیسے فرمایا۔يَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَيِّتٍ (ابراہیم :۱۸)۔(۵) اَلْخَامِس۔اَلْمَنَامُ نیند۔لسان میں ہے وَقَدْ یُسْتَعَارُ الْمَوْتُ لِلْاَحْوَالِ الشَّاقَّۃِ کَالْفَقْرِ وَالذُّلِّ وَالسُّؤَالِ وَالْھَرَمِ وَالْمَعْصِیَۃِ۔کبھی موت کا لفظ استعارۃً تکلیف دِہ حالتوں پر بھی جیسے فقر۔ذ ّلت۔سوال۔بڑھاپا اور معصیت ہیں بولا جاتا ہے۔تَشْکُرُوْن۔شَکَرَ کے لئے دیکھیں حَلِّ لُغَات آیت نمبر۵۳ سورۃ ھذا۔تفسیر۔ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ سے مراد جہالت کے بعد علم اور تلخ زندگی کے بعد آرام مہیا کرنا ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ۔آیت ما قبل کے ساتھ اس کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے ذلّت و تکلیف کے بعد تمہاری حالت کو ترقی دی اور تمہیں معزّز بنایا۔پہلی آیت کے الفاظ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ درآنحالیکہ تم دیکھتے تھے۔ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مُردے نہیں تھے۔حلّ لغات میں موت کے مندرجہ ذیل چھ معنے لغت سے بتائے جاچکے ہیں (۱) قوت نشوونما کا زائل ہو جانا (۲) قوتِ حس کا مر جانا (۳) قوتِ اِدراک کا نہ ہونا یعنی جہالت