تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 97

اَنْظُرْ اِلَیْکَ کہا تھا (الاعراف:۱۴۴ ) یعنی اے میرے رب مجھے اپنا آپ دکھا تا مَیں بھی تجھے دیکھوں لیکن اُن پر غضب نازل نہ ہوا اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے تو محبت کے تقاضے سے سوال کیا اور ان لوگوں نے یہ شرط لگا دی کہ ہم تو اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک خدا کو دیکھ نہ لیں اور یہ گستاخی اور شرارت ہے اس لئے خفگی کا الہام ہوا۔اگر حق کو قبول کر کے رؤیت کا سوال کرتے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طر ح ان پر بھی ناراضگی کا اظہار نہ کیاجاتا۔اَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ میں صاعقہ سے مراد فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۔صَاعِقَہ کے معنے عربی زبان میں عذاب کے ہیں۔لسان العرب میں لکھا ہے قِیْلَ اَلصَّاعِقَۃُ۔اَلْعَذَابُ یعنی اہلِ لغت کہتے ہیں کہ صاعقہ عذاب کو کہتے ہیں۔اس لفظ کی باریک تحقیقات سے معلوم ہوتا کہ اس کا اطلاق خصوصاً ایسے عذابوں پر ہوتا ہے جن کے ساتھ سخت آواز ہو جیسے زلزلہ، بجلی یا بادِتُند کا عذاب۔کبھی صاعقہ کے معنے موت یا غشی کے بھی ہوتے ہیں لیکن اصل معنے وہی ہیں جو اوپر لکھے گئے اور موت اور غشی کے معنے صرف اس لئے رواج پا گئے کہ اکثر خطرناک عذابوں کا نتیجہ موت یا غشی ہوتا ہے۔قرآن کریم میں صاعقہ کا لفظ زیادہ تر عذاب کے ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ ( حٰمٓ سجدہ :۱۴) یعنی اگر یہ لوگ تیری باتوں سے اعراض کریں تو تُو اُن کو کہہ دے کہ میں تمہیں ایسے صاعقہ سے ڈراتا ہوں جو عاد و ثمود کے صاعقہ کی طرح ہو گا اور آگے چل کر عاد کے صاعقہ کی یہ تشریح کی ہے کہ انہیں ایک بادِتُند کے عذاب کے ساتھ سزا دی گئی تھی۔اسی طرح ثمود کے صاعقہ کی تشریح سورۂ اعراف آیت ۷۹ میں یوں بیان فرمائی ہے۔فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ کہ ثمود کی قوم ایک سخت زلزلہ سے تباہ کی گئی تھی۔پس معلوم ہوا کہ قرآن کریم میں صاعقہ بمعنے عذاب استعمال ہوتا ہے اور آیت زیرِ تفسیر میں بھی اس سے عذاب ہی مراد ہے۔ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۰۰۵۷ پھر ہم نے تمہاری ہلاکت کے بعد تمہیں اس لئے اٹھایا کہ تم شکر گزار بنو۔حَلّ لُغَات۔بَعَثْنَا۔بَعَثَ سے متکلّم مع الغیر کا صیغہ ہے اور بَعَثَہٗ (یَبْعَثُ) بَعْثًا کے معنے ہیں۔اَرْسَلَہٗ اس کو بھیجا نیز کہتے ہیں بَعَثَہٗ بَعْثًا اور مطلب یہ ہوتا ہے اَثَارَہٗ وھَیَّجَہٗ اس کو برانگیختہ کیا اور جوش دلایا اور