تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 74
کیونکہ (۱) قرآن کریم کی سورتوں کی موجودہ ترتیب خود اس دعویٰ کو باطل کرتی ہے پہلی سورۃ فاتحہ ہے جو نہایت چھوٹی اور سات آیتوں کی سورۃ ہے۔دوسری بقرہ نہایت لمبی ہے تیسری آل عمران ہے جس کے بیس رکوع ہیں لیکن چوتھی نساء کے چوبیس رکوع ہیں اسی طرح اگلی سورتوں میں بھی کئی جگہ پر فرق ہے پس یہ کہنا کہ لمبائی کے مطابق سورتوں کو آگے پیچھے رکھ دیا گیا ہے درست نہیں۔(۲) قرآن کا جمع کرنا کسی بندہ کا فعل نہیں بلکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فعل نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗ (القیامۃ:۱۸) یعنی قرآن کریم کا جمع کرنا اور اس کا دنیا میں پھیلانا یہ دونوںکام میں خود کروں گا اور میرے خاص حکم اور نگرانی سے یہ کام ہوں گے پس ایک مسلمان کے نزدیک تو یہ انسانی کام ہو ہی نہیں سکتا اور غیر مسلموں کے لئے وہ جواب ہے جو پہلے بیان ہو چکا ہے۔(۳) تیسرا جواب یہ ہے کہ سب سورتوں کے مضامین میں ترتیب موجود ہے اگر صرف لمبائی اور اختصار پر انہیں آگے پیچھے رکھا گیا تھا تو پھر سورتوں کے مضامین میں جوڑ اور اتصال کیونکر پیدا ہو گیا؟ جیسا کہ آگے چل کر تفسیر میں انشاء اللہ ثابت کیا جائے گا اور جس کا علم ہر سورۃ کے شروع اور آخر کے نوٹوں کو پڑھنے سے اس تفسیر کا مطالعہ کرنے والو ںکو ہو جائے گا۔پس عیاں راچہ بیاں۔قرآن مجید کی ترتیب نزول اور ترتیب جمع میں فرق کی وجہ بیشک یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگرموجودہ ترتیب خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو کیوںنہ اُسی ترتیب میں اُتارا جو اس وقت موجود ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کلامِ حکیم کے لئے یہ امر لازمی ہے کہ اس کے اُترنے کی ترتیب اور اس کے جمع کرنے کی ترتیب الگ الگ ہو جب کوئی ایسا نبی دنیا میں آئے جو نئی شریعت لانے والا ہو اور جس نے عقائد اور اعمال کے متعلق ایک مکمل ہدایت نامہ دنیا کو دینا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ترتیب نزول کے لحاظ سے اس کے الہام کا ابتدائی حصہ ترتیبِ تدوین کے لحاظ سے ابتدائی نہ ہو کیونکہ جن باتو ںکی ابتدائی دعویٰ کے وقت جبکہ لوگ اس نئے دین سے بالکل ناواقف ہوں گے سب سے پہلے پیش کرنے کی ضرور ت ہو گی ان باتوں کو اس وقت سب سے پہلے پیش کرنے کی ضرورت نہیںہو گی جبکہ لوگ اس کے کلام سے ایک حد تک واقف ہو چکے ہوںگے۔پس اسی حکمت کے مطابق قرآن کریم کے نزول کی ترتیب او رہے ا ور اس کے جمع کرنے کی ترتیب اور ہے چنانچہ سورتوں کے نزول کا سوال آیتوں کے نزول کی کیفیت سے حل ہو جاتا ہے۔احادیث سے ثابت ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کی آیتیں نازل ہوتی تھیں تو آپؐ کاتبوں کو ُبلوا کر حکم فرما دیتے تھے کہ فلاں آیت کو فلاں جگہ پر رکھو اور فلاں کو فلاں جگہ پر (ابو داؤد۔ترمذی۔احمد بحوالہ مشکوٰۃ کتاب فضائل القرآن باب القراءَات وجمع القرآن نیز فتح الباری