تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 65
عرفان کو یکجائی طو رپر طے کرا دے جنہیں فرداً مختلف انبیاء کے ذریعہ سے مختلف اقوام طے کر چکی ہیں تاکہ انسانی پیدائش کا مقصد اُمت ِ محمدؐیہ کے ذریعہ سے پورا ہو جائے۔صحابہؓ نے اس مقصد کو سامنے رکھا اور زمانہ سابق کی سب اقوام کے اخلاق کو یکجائی طور پر اپنے وجود میں پیدا کر کے ایک بے مثال نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔آج اگر ہماری جماعت اس مقصد کو پھر اپنے سامنے رکھ لے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام محمود پر مبعوث ہونے کا وقت او ربھی قریب ہو جائے گا اور دنیا اپنی پریشان کن بے تابیوں سے محفوظ ہو جائے گی۔مَغْضُوْب اور ضَالّ قوم سے مراد ہر شخص یا قوم جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کر کے اس کے غضب کو بھڑکا چکی ہو مَغْضُوْب عَلَیْھِمْ میں شامل ہے اسی طرح ہر قوم جو غیر اللہ کی محبت میں کھوئی گئی ہو اور اللہ تعالیٰ کو بھلا بیٹھی ہو وہ ضالّ ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں لفظوں کے خاص معنے بھی کئے ہیں امام احمد بن حنبل اپنی مسند میں عَدِی بِنْ حَاتَم سے ایک لمبی روایت نقل کرتے ہیں جس کے آخر میں ہے۔قَالَ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)اِنَّ الْمَغْضُوْبَ عَلَیْھِمْ اَلْیَہُوْدُ وَاِنَّ الضَّالِّیْنَ اَلنَّصَارٰی۔مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ سے مراد یہود ہیں اور ضَالِّین سے مراد نصاریٰ ہیں۔اسی طرح ترمذی نے بھی یہی روایت نقل کی ہے اور اس کے بارہ میں کہا ہے کہ حسن غریب ہے۔اِبن مردویہ نے ابو ذر غفاریؓ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمُ قَالَ الیَہُوْدُ وَ قُلْتُ الضَّالِّیْنَ قَالَ النَّصَارٰی (بحوالہ فتح البیان جلد اوّل زیرتفسیر سورۃ الفاتحۃ) یعنی حضرت ابو ذرؓ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ کون ہیں ؟آپؐ نے فرمایا۔یہود۔پھر میں نے کہا کہ ضَالِّیْن کون ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا۔نصاریٰ۔مَغْضُوْب اور ضَالِّیْن کی تشریح احادیث اور صحابہ کرام سے بہت سے صحابہؓ سے بھی یہ معنے ثابت ہیں مثلاً ابن عباس اور عبداللہ بن مسعود ابن ابی حاتم تو یہاں تک کہتے ہیں۔وَلَا اَعْلَمُ بَیْنَ الْمُفَسِّرِیْنَ فِیْ ھٰذَا اِخْتِلَافًا۔یعنی تمام مفسرین ان معنوں پر متفق ہیں اور اس بارہ میں مَیں نے اُن میں کوئی اختلاف نہیں دیکھا۔(ابن کثیر تفسیر سورة الفاتحة) یہودیوں کے مَغْضُوْب اور عیسائیوں کے ضَال ہونے کا ثبوت قرآن مجید سے قرآنی آیات سے بھی ان معنوں پر استدلال ہو سکتا ہے کیونکہ یہود کی نسبت قرآن کریم میں بار بار غضب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔مثلاً سورۃ بقرہ میں ہی فرماتا ہے۔فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ (البقرة :۹۱) یہود خدا کے متواتر غضب کو لے کر اس طرح بن