تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 57
کے لئے نام لے لے کر دعا کرے۔نبوت تو الگ رہی اگر کوئی یہ دعا کرے کہ یا اللہ مجھے صدیق بنا دے۔مجھے قطب بنا دے۔مجھے شہید بنا دے۔تو یہ دعا بھی ناپسندیدہ ہو گی۔اھدنا۔۔۔۔۔الخ آیت میں جمع کا صیغہ استعمال کرنے کی حکمت اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اِھْدِنَا کہہ کر دعا سکھائی ہے اِھْدِنِیْ کے الفاظ نہیں رکھے کیونکہ جمع کے الفاظ میں قومی ترقی کی طرف اشارہ ہے۔اللہ تعالیٰ قوم میں سے جسے جس قرب کے مقام کے لئے چنا جا سکتا ہے اس کے لئے اسے چن لیتا ہے۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ دعا حصولِ انعام کے لئے ہے پس جب نبوت بھی موھبت یعنی انعام ہے تو اگر اس دعا کو قوم کے لئے حصول نبوت کی دعا قرار دیا جائے تواس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ اس دعا میں ہر قسم کے انعامات کے طلب کرنے کی دعا سکھائی گئی ہے اور تمام کاموں میں صحیح راہ نمائی کی دعا سکھائی گئی ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ سب انعامات مسلمانوں کو ملیں گے او ران میں وہ خود نبوت کو شامل فرماتا ہے پس اس انعام کو الگ رکھنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے باوجود کوئی نبی کیونکر ہو سکتا ہے؟ اس جگہ یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیّٖن ہیں تو آپؐ کے بعد نبی کس طرح آ سکتا ہے ؟ سو اس اعتراض کا جواب بھی سورۂ نساء کی آیت میں موجود ہے کیونکہ اس آیت میں وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ کے الفاظ ہیں یعنی اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے کو یہ انعام ملیں گے اور یہ ظاہر ہے کہ جو مطیع ہو گا اس کا کام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام سے الگ نہیں ہوسکتا۔نہ وہ کوئی شریعت لا سکتا ہے پس جو نبی محمد رسول اللہ کے تابع ہو گا وہ خاتم النبیین کے خلاف نہیں بلکہ اس کے معنوں کو مکمل کرنے والا ہو گا۔مقام نبوت کے حاصل ہوجانے کے بعد آنحضرت کے اِھْدِنَا کی دعا کرنے سے مراد ایک صاحب جو اس زمانہ کے مفسر ہیں۔اور اپنے ترجمہ قرآن کریم کو بار بار پیش کرنے کے عادی ہیں۔انہوں نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اگر یہ دعا نبوت کے حصول کے لئے ہوتی تو کم از کم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام نبوت سے کھڑا ہونے سے پہلے سکھائی جاتی مگر قرآن کریم میں اس کا موجود ہونا بتاتا ہے کہ مقام نبوت کے ملنے کے بعد سکھائی گئی پس نبوت عطا فرمانے کے بعد اس دعا کا سکھانا بتاتا ہے کہ حصول نبوت کے لئے یہ دعا نہیں۔یہ اعتراض انتہاء درجہ کا بودا اور مصنف کے قلتِ تدبرّپر دلالت کرتا ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ میں جو دعا سکھائی گئی ہے وہ تو ایک طبعی دعا ہے ان الفاظ میں دعا کرنا صرف اس لئے بابرکت ہے کہ قرآنی الفاظ مبارک ہیں اور غلطی سے پاک