تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 56

ہے یعنی وہ منعم علیہ گروہ کے ساتھ ہوںگے نہ کہ ان میں سے۔اس اعتراض کی کمزوری خود ہی ظاہر ہے اگر مَعَ کا لفظ نبیوں کے ساتھ ہوتا تب تو کہا جا سکتا تھا کہ امتِ محمدؐیہ میں نبی نہ ہوںگے مگر ایسے لوگ ہوںگے جو نبیوںکے ساتھ رہیں گے لیکن قرآن کریم نے مَعَ کا لفظ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْکے ساتھ لگایا ہے پس اگر مَعَ کے معنے یہ کئے جائیں کہ جس لفظ پر مَعَ آیا ہے وہ درجہ مسلمانوں کو نہ ملے گا بلکہ اس درجہ کی معیت ملے گی تو پھر اس آیت کے یہ معنی بنیں گے کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی منعم علیہ یعنی انعام پانے والا نہیں ہو گا بلکہ صرف یہ ہو گا کہ ان کے کچھ افراد انعام پانے والوں کے ساتھ رہیں گے اور ان معنوں کو قرآن۔حدیث اور عقلِ سلیم ردّ کرتی ہے۔اگر کہا جائے کہ مَعَ کا لفظ در حقیقت اس تشریح کے ساتھ لگتا ہے جو اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ کی اس آیت میں کی گئی ہے تو بھی یہ اعتراض بالبداہت غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ تشریح میں چار گروہوں کا ذکر ہے نبیوں صدیقوں شہیدوں اور صالحوں کا۔اب اگر مَعَ کے معنے صرف معیت کے ہیں نہ کہ گروہ میں شمولیت کے تو پھر اس تشریح کے مطابق اس آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ مسلمان نبی نہ ہوںگے بلکہ نبیوں کے ساتھ رہیں گے۔صدیق نہ ہوں گے بلکہ صدیقوں کے ساتھ رہیں گے۔اسی طرح شہید اور صالح نہ ہوںگے بلکہ شہیدوں اور صالحوں کے ساتھ رہیں گے اس سے زیادہ غلط معنے اور کیا ہو سکتے ہیں؟ اور اس سے زیادہ رسول کریم صلیّ اللہ علیہ وسلم کی اور اُمت ِ محمدؐیہ کی ہتک کیا ہو سکتی ہے کہ اس امت میں نبی تو الگ رہے صدیق اور شہید اور صالح بھی نہ ہوںگے۔نبوت موھبت ہے تو اس کے لئے دعا کی کیوں ضرورت ہے؟ بعض لوگوں نے اس جگہ پر اعتراض کیا ہے کہ نبوت تو موھبت ہے اس کے لئے دُعا کے کیا معنی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دعا انسان نبوت کے لئے نہیں کرتا امت ِمحمدؐیہ تو دعااس امر کے لئے کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ اسے اعلیٰ سے اعلیٰ انعام عطا فرمائے۔یہی اس آیت کا مفہوم ہے آگے یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے کہ وہ جس پر جو چاہے انعام کرے۔اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ (الانعام :۱۲۵) نبوت بیشک موھبت ہے مگر یہ موھبت ابوجہل پر کیوںنہ ہوئی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیو ںہوئی؟ موھبت کو جذب کرنے کے لئے بھی تو ایثار اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے دوسرے یہ کون کہتا ہے کہ مومن کو یہ سکھایا گیا ہے کہ وہ دُعا کرے کہ یا اللہ مجھے نبوت عطا کر۔ایسی دعائیں روحانی امور تو الگ رہے دنیوی امور کے لئے بھی بعض دفعہ ناپسندیدہ اور مکروہ ہوںگی۔کوئی بڑھئی یہ دعا شروع کر دے کہ یا اللہ مجھے کالج کا پرنسپل بنا دے۔یا کوئی ُلولا لنگڑا یہ دعا کرے کہ یا اللہ مجھے فوج کا سپہ سالار بنا دے تو یہ دعائیں لغو اور فضول ہوںگی۔دُعائوں کی قبولیت حالات اور مصالح آسمانی کے ماتحت ہوتی ہیں۔پس مومن کے لئے یہ درست نہیں کہ وہ روحانی مقامات