تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 55
اللہ نے جو تم پر نعمت کی ہے اسے ہر وقت اپنی نگاہ میں رکھو اور وہ نعمت یہ ہے کہ اس نے تم میں سے نبی بنائے اور تم کو بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو نسل انسانی کی مختلف اقوام میں سے اور کسی قوم کو نہ دیا تھا۔اس آیت میں ان اشیاء کو جو انسان کے لئے نعمت قرار پا سکتی ہیں گنا گیا ہے اور یہود کو بتایا ہے کہ ان سب اقسام میں سے انہیں کثیر حصہ دیا گیا ہے۔تین قسم کے انسانی کمالات انسانی کمالات تین قسم کے ہوتے ہیں (۱) دنیوی ذاتی (۲) دینی ذاتی (۳) اور دینی دنیوی نسبتی یعنی علاوہ دنیوی اور دینی کمالات کی قسموں کے ایک کمال کی قسم یہ بھی ہے کہ کسی فرد یا قوم کو اپنے رقیبوںپر کیا فضیلت حاصل ہے؟ فضیلت کی اس قسم کی طرف انسان فطرتاً بہت راغب ہوتا ہے یعنی وہ صرف کمال کا طالب نہیں ہوتا بلکہ ایسے کمال کا طالب ہوتا ہے جو اسے اپنے ہم عصروں اورر قیبوں پر فضیلت بخشے۔مذکورہ بالا آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی طرف تینوں قسم کے کمالات منسوب فرمائے ہیں (۱) ان پر دنیوی انعامات ہوئے یہاں تک کہ وہ قوم ایک لمبے عرصہ تک بادشاہت کی وارث کی گئی۔تمام دنیوی کمالات اپنے نشوو نماپانے کے لئے بادشاہت چاہتے ہیں اور جس قوم میں بادشاہت آجائے اسے دنیوی ترقی کے سب اسباب میسّر آ جاتے ہیں خواہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے یا نہ اُٹھائے اس لئے کسی قوم میں ایک لمبے عرصہ تک بادشاہت کا وجود قائم کر دینے کے یہ معنے ہیں کہ دنیوی ترقیات کے سب رستے اس کے لئے کھول دیئے گئے (۲) جس طرح بادشاہت دنیوی کامیابیوں کا ذریعہ ہے اس کی آخری منتہاء ہے اسی طرح دینی کامیابیوں کا ذریعہ اور دینی ترقی کی منتہاء نبوت ہے اس بارہ میں حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ وہ ذریعہ اور وہ انتہائی انعام بھی تم کو دیا گیا ہے۔اور ایک دو نبی نہیں بلکہ ایک لمبا سلسلہ انبیاء کا تم کو عطا ہوا ہے۔(۳) تیسرا انعام نسبتی ترقی ہے یعنی دنیوی یا دینی انعامات نہ ملیں بلکہ دوسری اقوام کے مقابلہ میں بھی زیادہ ملیں۔جس سے ہم عصروں پر عزت اور فوقیت حاصل ہو حضرت موسیٰ علیہ السلام وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ(المائدة:۲۱) فرما کر اپنی قوم کو توجہ دلاتے ہیں کہ دوسری اقوام پر برتری کا انعام بھی اللہ تعالیٰ نے تم کو بخشا ہے تم کو بادشاہت ہی نہیں دی بلکہ شہنشاہیت بھی دی ہے اور نبوت ہی نہیں دی بلکہ ایسے انبیاء عطا کئے جو دوسرے نبیوں کے لئے مشعل ہدایت کا کام دینے والے ہیں اور جن کے ماتحت اور انبیاء ہیں پس تینوں قسم کے انعام تم کو حاصل ہیں دنیوی بھی اور دینی بھی اور دوسری قوموں پر دنیوی اور دینی برتری بھی۔یہ قول تو موسیٰ علیہ السلام کا ہے لیکن عبارت قرآن کریم کی ہے۔ایک مبصّر اس کے الفاظ کے اختصار اوراس