تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 54
نہیں سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کی جستجو کے بعد کونسی چیز ہے جو اسے خوش کر سکے گی؟ جو خدا تعالیٰ کا طالب ہوا وہ ساری ترقیات کا طالب ہوا۔اور جس نے خدا تعالیٰ کو سمجھا وہ کسی ترقی کو بھی آخری ترقی نہیں سمجھ سکتا۔مگر مومن کے لئے اس سے بڑھ کر خوشی کا مقام یہ ہے کہ یہ خواہش صرف اس کے دل سے پیدا نہیں ہوتی اس کا ربّ بھی اسے یہی تعلیم دیتا ہے کہ دیکھنا چھوٹے درجہ پر راضی نہ ہو جانا مجھ سے نیکی مانگو مگر معمولی نیکی نہیں بلکہ وہ نیکی جو ان لوگوں کو حاصل تھی جنہوں نے نیکیوں کی دوڑ میں انعام حاصل کئے تھے اور کسی ایک دوڑ کے انعام حاصل کرنے والوں کا انعام نہیں بلکہ سب انعام پانے والوں کے انعام مجھ سے طلب کرو۔ُلغت کے متعلق تو میں اوپر بتا آیا ہو ںکہ انعام کے کوئی خاص معنے نہیں بلکہ ہر اچھی چیز کو جو خوشنودی کے اظہار کے لئے کسی کو دی جائے وہ انعام ہے خواہ وہ دنیوی ہو یا دینی۔قرآن کریم میں بھی یہ لفظ انہی وسیع معنوں میں آیا ہے سورۂ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ (بنی اسرائیل:۸۴) یعنی جب ہم انسان پر کوئی انعام کرتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتا ہے او رایک طرف ہو جاتا ہے یعنی بجائے انعام پر شکر گزار ہونے کے ہماری طرف سے غافل ہو جاتا ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ انعام کے معنے دنیا کے سامان علم، ُہنر ، دنیاوی عزتیں وغیرہ بھی ہیں کیونکہ یہی چیزیں ہیں جو ایک احسان کا رنگ بھی رکھتی ہیں اور بہت سے لوگ ان احسانات کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کی بجائے خدا تعالیٰ کو ُبھلا دیتے ہیں۔مصائب اور مشکلات سے بچا لینے کا نام بھی قرآن کریم میں نعمت آیا ہے۔فرماتا ہے۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْۤا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (المائدة: ۱۲) اے مومنو! اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو جب ایک قوم ( بُری نیّت سے) تمہاری طرف ہاتھ بڑھانے کا قصد کر رہی تھی تو ہم نے ان کے ہاتھوں کو تم (تک پہنچنے) سے روکے رکھا اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور مومنوں کو چاہیے کہ اللہ پر ہی توکل کیا کریں۔اس آیت میں دشمن کے حملوں سے محفوظ رکھنے کا نام نعمت رکھا گیا ہے۔مگر جہاں ہر احسان نعمت ہے وہاں اس کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بعض احسان خاص طور پر نعمت کہلانے کے مستحق ہیں۔کیونکہ وہ مختلف قسم کے احسانوں میں سے چوٹی کے احسان ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ (المائدة :۲۱) یعنی اس وقت کو بھی یاد کرو جبکہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم!