تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 53

ہیں دوسری باتیں <mark>اس</mark> وقت مد<mark>نظر</mark> نہیں ہوتیں (مفردات) پس غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ کے یہ معنی ہوئے کہ جن کے افعال کو اللہ تعالیٰ نے برا قرار دے کر ان کے لئے سزا کا فیصلہ کر لیا ہے۔وَلَا الضَّالِّیْن۔ضَلَّ کے معنے سیدھے ر<mark>اس</mark>تہ سے ہٹ جانے کے ہیں اور یہ لفظ ہدایت کے مقابل پر ہے اور ضلال کا لفظ ر<mark>اس</mark>تی سے خلاف ہر فعل پر بولا جاتا ہے خواہ دانستہ ہو یا نادانستہ۔معمولی فعل ہو یا کوئی بڑا جرم ہو (مفردات) ضَلَّ کے معنے کسی کام میں منہمک ہو جانے کے بھی ہیں قرآن کریم میں آتا ہے۔اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا (الکہف :۱۰۵) ان کی تمام کوششیں دنیا کی زندگی میں ہی لگی ہوئی ہیں اور وہ بالکل دنیا کے کاموں میں ہی منہمک ہیں۔یہ معنے وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى (الضحیٰ:۸) کی آیت میں ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔جب ہم نے تجھے اپنی محبت میں منہمک دیکھا اور اپنے عشق میں کھویا <mark>ہوا</mark> پایا تو <mark>اس</mark> کے نتیجہ میں ہم نے اپنی ذات تک تیری راہنمائی فرمائی۔اردومیں بھی کھویا <mark>ہوا</mark> ،کھویا رہنا انہی معنوں میں <mark>اس</mark>تعمال ہوتا ہے کہتے ہیں فلاں شخص تو آج کل کچھ کھویا کھویا سا رہتا ہے یعنی کسی خاص خیال میں محو رہتا ہے انگریزی میں بھی یہ محاورہ پایا جاتا ہے۔میں صرف ان حوالوں سے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک طبعی محاورہ ہے اور فطرت انسانی سے ایک نہایت قریب من<mark>اس</mark>بت رکھتا ہے <mark>اس</mark> وجہ سے بہت سی زبانوں نے <mark>اس</mark>ے اختیار کر لیا ہے۔وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا  کے معنی بالکل <mark>اس</mark>ی محاورہ کے مطابق ہیں یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشقِ الٰہی میں محو ہو گئے تھے اور ہر وقت کھوئے کھوئے رہنے لگ گئے تھے اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا پسند آئی اور یہ عشق اُس کے عشق کو جذب کرنے کا موجب ہو گیا۔پس جو عاشق <mark>اس</mark> کے عشق میں کھویا گیا تھا وہ اُسے خود جا کر اپنے دروازہ تک لے آیا۔مگر یہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ضَلَّ کا لفظ عام طور پر برے معنوں میں ہی <mark>اس</mark>تعمال ہوتا ہے پس جب اچھے معنوں میں <mark>اس</mark>تعمال ہو تو <mark>اس</mark> کے لئے کسی قرینہ کی ضرورت ہو گی جیسے اوپر کی آیت میں فَھَدٰی کا قرینہ ہے۔تفسیر۔جب سیدھے ر<mark>اس</mark>تہ کے دکھانے کی دُعا سکھائی تو <mark>اس</mark> میں <mark>اس</mark> امر کو بھی شامل کیا کہ وہ ر<mark>اس</mark>تہ ان لوگوں کا ہو جن پر تُو نے انعام کیا ہے یعنی معمولی ر<mark>اس</mark>تہ نہ ہو بلکہ اعلیٰ اور ترقی یافتہ ارواح کا ر<mark>اس</mark>تہ ہو۔مسلمانوں کے لئے ایک شاندار مقصد یہ کیسا شاندار مقصد ہے جوہر مسلمان کے سامنے <mark>اس</mark>لام نے پہلی ہی <mark>سورۃ</mark> میں رکھا ہے <mark>اس</mark>ے نیکیوں میں اور اچھی چیزوں میں صرف نیکی کی خواہش نہیں رکھنی چاہیے بلکہ انعام جیتنے والوں کی جماعت میں شامل ہونے کی خواہش رکھنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنے والا چھوٹے درجہ پر صبر نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ کی محبت انسان کے دل میں ایسی وسعت پیدا کر دیتی ہے کہ وہ معمولی ترقی پر خوش نہیں ہوتا۔وہ خوش ہو ہی