تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 576
اَلْـخٰشِعِیْن۔خٰشِعِیْنَ اور خٰشِعُوْنَ خَاشِعٌ کی جمع ہے جو خَشَعَ سے اسم فاعل ہے۔خَشَعَ کے معنے ذَلَّ وَتَطَأْمَنَ تابعدار ہو گیا اور عاجزی کا اظہار کیا اور خَشَعَ بِبَصَرِہٖ کے معنے ہیں غَضَّہٗ آنکھ نیچے کر لی۔نِـھَایَۃ میں لکھا ہے کہ اَلْخُشُوْعُ فِی الصَّوْتِ وَالْبَصَرِ کَالْخُضُوْعِ فِی الْبَدَنِ جس طرح بدن کی عاجزی اور کمزوری ظاہر کرنے کے لئے خضوع کا لفظ بولا جاتا ہے اسی طرح آواز کے کمزور ہونے اور آنکھ کے عجز کو ظاہر کرنے کے لئے خشوع کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔(اقرب) مفردات میں ہے کہ اَلْخُشُوْعُ اَلضَّرَاعَۃُ خشوع کے معنے عاجزی کرنے کے ہوتے ہیں۔وَاَکْثَرُ مَا یُسْتَعْمَلُ الْخُشُوْعُ فِیْمَـا یُوْجَدُ عَلَی الْجَوَارِحِ ، وَالضَّرَاعَۃُ اَکْثَرُ مَا تُسْتَعْمَلُ فِیْمَـا یُوْجَدُ فِی الْقَلْبِکہ خشوع کا استعمال اکثر اس عاجزی پر ہوتا ہے جو اعضاء سے ظاہر ہو رہی ہے اور تضرع اکثر دل میں عاجزی پیدا ہو جانے کے متعلق بولا جاتا ہے (مفردات) پس خٰشِعِیْنَ کے معنے ہوں گے عاجزی اختیار کرنے والے۔فروتنی اختیار کرنے والے۔تفسیر۔صداقت کے ماننے میں دو روکیں اور ان کا حل صداقت کے قبول کرنے میں دو روکیں ہوتی ہیں (۱) حکومت قوم رشتہ داروں اور دوستوں کا دبائو جو حق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یا ضد تعصب یا خود غرضی کی وجہ سے حق کو قبول نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی قبول نہیں کرنے دیتے (۲) سابق عادات یا گناہوں کا زنگ دل کو مرُدہ کر دیتا ہے اور ہمت کو سلب کر دیتا ہے۔اس آیت میں ان دونوں روکوں کی طرف اشارہ کر کے بتایا گیا ہے کہ اے بنی اسرائیل! اگر تم پر حق کھل گیا ہے تو اسے قبول کرنے میں دیر نہ کرو بیشک تم کو تمہارے ہم قوموں اور رشتہ داروں دوستوں کی طرف سے روکا جائے گا تم پر ظلم کیا جائے گا۔تکلیفیں دی جائیںگی مگر ان باتوں کی پروا نہ کرو اور صبر کی پسندیدہ عادت سے اس روک کا مقابلہ کرو دوسرے اپنے دل کو صاف کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو تاکہ دل کے زنگ دور ہوں اور تم میں صداقت کو قبول کرنے کی اہلیت پیدا ہو۔آیت ھٰذا میں ایک نفسیاتی نکتہ یعنی کسی کام کی درستی کے لئے دو امور کی ضرورت ایک اور نفسیاتی نکتہ بھی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کسی کام کی درستی کے لئے دو امور کی ضرورت ہوتی ہے اوّل بیرونی بد اثرات سے حفاظت ہو دوسرے اندرونی طاقت کو بڑھایا جائے اس آیت میں صبرکے لفظ سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بیرونی بد اثرات کا مقابلہ کرو اور صلوٰۃ کے لفظ سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر کے اس