تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 575
وَ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ اِلَّا عَلَى صبر اور دعا کے ذریعہ سے (اللہ سے )مدد مانگو اور بے شک فروتنی اختیار کرنیوالوں کے سوا( دوسروں کے لئے) الْخٰشِعِيْنَۙ۰۰۴۶ یہ (امر) مشکل ہے۔حَلّ لُغَات۔اِسْتَعِیْنُوْا۔اِسْتَعِیْنُوْا امر حاضر جمع کا صیغہ ہے اور اِسْتِعَانَۃٌ کے معنے مدد طلب کرنے یا مدد حاصل کرنے کے ہیں چنانچہ کہتے ہیں اِسْتَعَنْتُہٗ فَاَعَانَنِیْ میں نے اس سے مدد طلب کی تو اس نے مدد دے دی۔(اقرب) اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُکے معنے ہوئے ہم مدد طلب کرنے کے لئے تجھے مخصوص کرتے ہیں یعنی اور کسی کو لائق نہیں سمجھتے کہ اس سے مدد طلب کریں۔اَلصَّبْرُ۔صَبْر کے معنی ہیں تَرْکُ الشِّکْوٰی مِنْ اَلَمِ الْبَلْوٰی لِغَیْرِ اللّٰہِ لَا اِلَی اللّٰہِ کہ مصیبت کے دُکھ کا شکوہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کے پاس نہ کرنا فَاِذَا دَعَا اللّٰہَ الْعَبْدُ فِیْ کَشْفِ الضُّرِّ لَا یُقْدَحُ فِیْ صَبْرِہٖ اگر بندہ اپنی رفع مصیبت کی خدا تعالیٰ کے پاس فریاد کرے تو اس کے صبر پر اعتراض نہ کیا جائے۔کلّیات ابی البقاء میں لکھا ہے کہ اَلصَّبْرُ فِی الْمُصِیْبَۃِ کہ صبر مصیبت کے وقت ہوتا ہے وَصَبَرَ الرَّجُلُ عَلَی الْاَمْرِ نَقِیْضُ جَزِعَ اَیْ جَرُؤَ وَ شَجُعَ وَتَجَلَّدَ اور صبر جزع یعنی شکوہ کرنے اور گھبرانے کے مقابل کا لفظ ہے اور صبر کے معنے ہوتے ہیں دلیری دکھائی جرأت دکھائی ہمت دکھائی اور صَبَر عَنِ الشَّیْ ءِ کے معنے ہیں اَمْسَکَ عَنْہُ کسی چیز سے رُکا رہا۔صَبَرَ الدَّابَۃَ حَبَسَہَا بِلَا عَلَفٍ اور جب صَبَرَ کا مفعول دَآبۃ کا لفظ ہو تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ جانور کو چارہ نہ دیا نیز کہتے ہیں صَبَرْتُ نَفْسِیْ عَلٰی کَذَا۔حَبَسْتُھَا کہ میں نے فلاں بات پر ثابت قدمی دکھائی چنانچہ محاورہ ہے صَبَرْتُ عَلٰی مَا اَکْرَہُ وَ صَبَرْتُ عَمَّا اُحِبُّ یعنی جب صَبَرَ کا صلہ عَلٰی ہو تو اس کے معنے کسی امر پر ثابت قدم رہنے کے ہوتے ہیں اور جب اس کا صلہ عَنْ ہو تو اس کے معنے کسی چیز سے رُکنے یا کسی کو اس سے روک دینے کے ہوتے ہیں۔(اقرب) پس صَبْرٌ کے معنے (۱) بدیوں سے رُکتے رہنا اور نیکیوں پر ثابت قدم رہنا۔(۲) خدا تعالیٰ کے راستہ میں تکلیف پر جزع فزع نہ کرنا۔اَلصَّلوٰۃُ۔تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۴۔