تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 52
ہے۔ایک مسیحی ایک یہودی ایک ہندو ایک زردشتی ایک بدھ ایک <mark>دہریہ</mark> بھی <mark>ان</mark> الفاظ پر اعتراض نہیں کر سکتا۔<mark>دہریہ</mark> خدا تعالیٰ کو نہیں م<mark>ان</mark>تا لیکن وہ یوں کہہ سکتا ہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو میں اس سے کہتا ہوںکہ مجھے سیدھا راستہ دکھا۔پس یہ دُعا جامع بے ضرر اور عام ہے ہر شخص ہر حالت میں اس کا محتاج ہے اور اس کے م<mark>ان</mark>گنے میں اسے کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔میرا تجربہ ہے کہ جن غیر مذاہب کے لوگوں نے میرے کہے پر یہ دُعا م<mark>ان</mark>گی ہے اللہ تعالیٰ نے <mark>ان</mark> پر اسلام کی سچائی کھول دی ہے اور میں تجربہ کی بناء پر یقین رکھتا ہوں کہ جو کوئی بھی سچے دل سے یہ دُعا م<mark>ان</mark>گے گا اس کی ہدایت کے لئے ضرور کوئی سام<mark>ان</mark> خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا کیا جائے گا کہ یہ ممکن نہیں کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا موجود ہو اور ہدایت کے لئے چل<mark>ان</mark>ے والا اس کے دروازہ سے مایوس آئے۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ١ۙ۬ۦغَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ <mark>ان</mark> لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے <mark>ان</mark>عام کیا جن پر نہ تو( بعد میں تیرا) غضب نازل ہوا (ہے) وَ لَا الضَّآلِّيْنَؒ۰۰۷ اور نہ وہ گمراہ( ہوگئے) ہیں۔حَلّ لُغَات۔اَنْعَمْتَ اَنْعَمْتَ۔اِنْعَامٌ سے ہے <mark>ان</mark>عام کے معنی فضل کرنے اور زیادہ کے ہیں (اقرب) یہ لفظ ہمیشہ اسی وقت استعمال کیا جاتا ہے جبکہ منعم علیہ یعنی جس پر احس<mark>ان</mark> ہوا ہو عقل والی ہستی ہو (مفردات) غیرذوی العقول کی نسبت مثلاً گھوڑے بیل کی نسبت کبھی نہیں کہیں گے کہ فلاں شخص نے اس گھوڑے یا بیل پر <mark>ان</mark>عام کیا ہاں یہ کہیں گے کہ فلاں <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> پر <mark>ان</mark>عام کیا۔اَلْغَضَبُ۔اَلْغَضَبُ ثَوْرَ<mark>ان</mark>ُ دَمِ الْقَلْبِ اِرَادَۃَ الْاِنْتِقَامِ غضب جرم کی سزا دینے کے ارادہ پر دل میں خون کے جوش مارنے کو کہتے ہیں۔قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اِتَّقُوا الْغَضَبَ فَاِنَّہٗ جَمْرَۃٌ تُوْ قَدُ فِیْ قَلْبِ ابْنِ آدَمَ اَلَمْ تَرَوْا اِلٰی اِنْتِفَاخِ اَوْدَاجِہٖ وَ حُمْرَۃِ عَیْنَیْہِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔غضب سے بچو کیونکہ وہ ایک چنگاری ہے جو ابن آدم کے دل میں سلگائی جاتی ہے پھر فرمایا کیا تم نے دیکھا نہیں کہ جب کسی کو غضب آتا ہے تو اس کی رگیں پھول جاتی ہیں اور اس کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔وَاِذَا وُصِفَ اللّٰہُ تَعَالٰی بِہٖ فَالْمُرَادُ اَ لْاِنْتِقَامُ دُوْنَ غَیْرِہٖ اورجب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جائے تو اس کے معنی صرف جُرم کی سزا دینے کے ہوتے