تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 51

کی جاتی تو ہم <mark>اس</mark> پر غور ہی کیوں کریں؟ دوسرا جواب <mark>اس</mark> کا یہ ہے کہ قرآن روحانی عالم ہے جو جسمانی عالم کا حال ہے وہی <mark>اس</mark> کا ہے دنیوی امور میں بھی انسانی علم ہر روز ترقی کرتا ہے مگر یہ تو نہیں ہوتا کہ ہر روز نئی دنیا بنتی ہے بلکہ <mark>اس</mark>ی پرُانی دنیا کے <mark>اس</mark>رار اور غوامض لوگوں پر ظاہر ہوتے چلے جاتے ہیں <mark>اس</mark>ی طرح قرآن کریم کے نزول کے بعد جو روحانی عالم ہے کسی نئی کتاب کی ضرورت نہیں رہی مگر علم کی ترقی میں <mark>اس</mark> نے روک نہیں پیدا کی۔جس طرح مادی قانون کے مطالعہ سے دنیوی علم میں ترقی ہو رہی ہے <mark>اس</mark>ی طرح قرآن کریم اپنے اندر وسیع اور انسانی پرواز کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر محدود علم رکھتا ہے جو لوگ <mark>اس</mark> پر غور کرتے ہیں جس قدر اخلاص ان کی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی دعا میں ہوتا ہے <mark>اس</mark>ی کے مطابق قرآن کریم کے <mark>اس</mark>رار ان پر کھلتے چلے جاتے ہیں۔پس باوجود قرآن کریم کے آخری کتاب ہونے کے علم کی ترقی میں کمی نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے بھی <mark>اس</mark> ترقی کی رفتار تیز ہو گئی ہے قرآن کریم کے صریح ارشاد سے ان معنوں کی تصدیق ہوتی ہے۔فرماتا ہے وَ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى (محمّد : ۱۸) جو لوگ ہدایت پاتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ پھر اورہدایت دیتا ہے پس ہدایت کسی ایک شے کا نام نہیں بلکہ صداقتوں کی ایک وسیع زنجیر کا نام ہے جس کی ایک کڑی ختم ہوتی ہے تو دوسری سامنے آ جاتی ہے۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں جس کے بارہ میں شافی علم قرآن کریم میں نہیں <mark>اس</mark> حقیقت کی موجودگی میں کسی دوسری شریعت کا پیغام سننا ایسا ہی ہے جیسے چشمہ پر بیٹھا ہوا انسان پانی کی تلاش کے لئے نکل کھڑا ہو۔مجھے تعجب آتا ہے اُن لوگوں پر جو ہر روز اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی دُعا مانگتے ہیں اور پھر خیال کرتے ہیں کہ جو کچھ پہلے مفسّر لکھ گئے <mark>اس</mark> سے بڑھ کر کچھ لکھنا ناجائز ہے ان کے بیان کردہ علوم کے باہر کوئی علم قرآن کریم میں نہیں ہے اگر یہ بات سچ ہے تو وہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی دُعا کیوں مانگتے ہیں؟ ان کے عقیدہ کے مطابق خدا تعالیٰ کے پ<mark>اس</mark> تو ان کو دینے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں انہیں پرانی تفسیریں خرید کر یا دوسروں سے مانگ کر پڑھ لینی چاہئیں اور <mark>اس</mark> دُعا میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ میں دین اور دنیا کے ہر معاملہ کے لئے دعا <mark>یہ دُعا ایسی جامع ہے کہ دین اور دُنیا</mark> کے ہر معاملہ میں <mark>اس</mark> سے انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے او رہدایت کا طالب خواہ کسی مذہب کا ہو <mark>اس</mark> سے فائدہ اُٹھانے میںکوئی عذر پیش نہیں کر سکتا۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ میں صرف سیدھے اور بے نقص ر<mark>اس</mark>تہ دکھانے کی التجا ہے کسی مذہب کا نام نہیں کسی خاص طریقہ کا ذکر نہیں۔کسی معیّن اصل کی طرف اشارہ نہیں صرف اور صرف صداقت اور غیرمخلوط اور خالص صداقت کی درخو<mark>اس</mark>ت ہے جسے ہر شخص اپنے عقیدہ اور خیال کو نقصان پہنچائے بغیر دہرا سکتا