تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 50
ہدایت میسر آ گئی ہے او رعملی مشکلات بھی دُور ہو گئی ہیں اور وہ ہدایت کے راستوں پر قدم زن ہے تو اس کے لئے اس دُعا کے یہ معنے ہوںگے کہ اے خدا! تیری ہدایت وسیع ہے اور عرفان کی راہیں غیر محدود ہیں۔مجھے اپنے فضل سے ہدایت کے راستہ پر آگے بڑھاتا لئے چل میرا قدم کسی جگہ نہ ٹھہرے اور میں صداقت کے اسرار سے زیادہ سے زیادہ واقف ہوتا جائوں اور آگے سے زیادہ مجھے اس پر عمل کرنے کی توفیق ملتی جائے۔ان تینوں معنوں کو مدنظر رکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ کوئی انسان بھی ایسا ہو سکتا ہے جسے کسی وقت بھی اس دُعا سے استغنا حاصل ہو جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی طلب ہدایت سے مراد مسلمانوں کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بیشک بہت کامل تھے لیکن اسلام کا خدا غیر محدود طاقتوں والا ہے۔کوئی کتنی بھی ترقی کر جائے پھر بھی ترقی کی گنجائش اس کے لئے باقی رہتی ہے اور پھر بھی اس کے لئے ضرورت باقی رہتی ہے کہ وہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی دعا کرتا رہے۔دین تو دین دنیا کے متعلق بھی انسان کا علم بڑھتا رہتا ہے اور کوئی علم بھی تو ایسا نہیں جس میں مزید ترقی کی گنجائش نہ ہو پس دُنیا کے کاموں میں بھی انسان محتاج ہے کہ ہمیشہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی دُعا کرتا رہے کہ اس کے ذریعہ سے علم کی ترقی ہو۔حقیقت یہ ہے کہ یہ دُعا بجائے محلِّ اعتراض ہونے کے علم کے بارہ میں اسلام کا ایسا وسیع نظریہ پیش کرتی ہے جو قرآن کریم کی برتری کی ایک زبردست دلیل ہے قرآن پہلے مذاہب کی موجودگی میں آیا اور انہیں منسوخ کر کے اس نے ایک نئے اور مکمل دین کے قیام کا دعویٰ کیا مگر باوجود اس کے اس نے دوسرے ادیان کی طرح یہ نہیں کہا کہ اس کے زمانہ میں علم ختم ہو گیا بلکہ یہ کہا کہ اس کے ذریعہ سے علم کی زیادتی ہمیشہ ہوتی رہے گی اور اس کے لئے مسلمانوں کو دُعا سکھائی اور ان پر واجب کیا کہ وہ اسے ہر روز تیس پینتیس دفعہ پڑھا کریں اس طرح اس نے علم کی ترقی کے لئے انسانی نظریہ کو کس قدر وسیع کر دیا ہے۔کیا قرآن کریم دنیا میں علم کی زیادتی کی وجہ سے کسی وقت منسوخ ہو جائے گا بعض لوگ اس نظریہ پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اس سے تو معلوم ہوا کہ قرآن کریم آخری ہدایت نامہ نہیں کیونکہ اگر علم کی زیادتی ہوتی رہتی ہے تو کیوں تسلیم نہ کیا جائے کہ کسی وقت قرآن کریم بھی منسوخ ہو جائے گا اور اس کی جگہ کوئی اس سے بہتر کتاب لے لےگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ قرآن کریم سے بہتر کتاب کوئی لے آئے اور قرآن کریم کو منسوخ قرار دےدے لیکن تیرہ سو سال میں تو ایسی کتاب کوئی آئی نہیں فلسفیوں اور غلط مذاہب کے دلدادوں نے بہت زور لگایا لیکن اب تک ناکام ہی رہے ہیں۔پس جبکہ ایسی کوئی کتاب اب تک مقابل پر پیش نہیں