تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 547

اور اجنبی زبان سے اس گروہ کے ساتھ باتیں کرے گا کہ اس نے اُن سے کہا کہ یہ وہ آرام گاہ ہے تم ان کو جو تھکے ہوئے ہیں آرام دیجیئو اور یہ چین کی حالت ہے پروے شنوانہ ہوئے۔سو خدا کا کلام ان سے یہ ہو گا حکم پر حکم، حکم پر حکم۔قانون پر قانون، قانون پر قانون۔تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں۔تاکہ وے چلے جاویں اور پچھاڑی گریں اور شکست کھاویں اور دام میں پھنسیں اور گرفتار ہوویں (یسعیاہ باب ۲۸ آیت ۹ تا ۱۳) اس پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام ایک زمانہ میں (۱) اسی قوم کے پاس آئے گا جو الہام کے دودھ سے محروم کر دی گئی اور جو اپنی والدہ سے جدا کئے گئے یعنی نبوت پانے کے بعد اس سے محروم کر دیئے گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت آئے جب نبوت پر ایک لمبا عرصہ گزر گیا تھا اور آپ نے بنی اسرائیل کو بھی مخاطب کیا جو الہام کے دودھ سے محروم کر دیئے گئے تھے اور نبوت کی چھاتیوں سے جدا کر دیئے گئے تھے۔قرآن کریم میں آتا ہےيٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّ لَا نَذِيْرٍ١ٞ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّ نَذِيْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ(المائدۃ:۲۰) یعنی اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے۔رسولوں کے ناغہ کے بعد وہ تمہارے فائدے کی باتیں بیان کرتا ہے تایہ نہ کہو کہ ہمارے پاس تو نہ کوئی خوشخبری دینے والا آیا ،نہ ڈرانے والا۔پس خوب سن لو! کہ تمہارے پاس اب ایک خوشخبری دینے والابھی اور ڈرانے والا بھی آ گیا ہے۔اور اللہ ہر امر پر خوب قادر ہے۔غرض اسی آیت میں یسعیاہ نبی کے ان الفاظ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ’’وہ کس کو دانش سکھائے گا، کس کو وعظ کر کے سمجھا ویگا۔ان کو جن کا دودھ چھڑایا گیا۔جو چھاتیوں سے جدا کئے گئے۔‘‘ (۲) دوسرے وہ کلام جو اس قوم کے لئے نازل ہو گا یکدم نازل نہ ہو گا نہ کسی ایک شہر میں نازل ہو گا بلکہ حکم پر حکم اور قانون پر قانون مختلف مقامات پر اُتریںگے۔قرآن کریم اسی طرح اُترا۔کچھ مکہ میں ،کچھ مدینہ میں ،کچھ سفروں میں حتّٰی کہ دشمنوں نے اعتراض کیا کہ لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً (الفرقان :۳۳) یعنی کیوں محمد پر سارا قرآن ایک ہی دفعہ نہ اُترا؟ اور باوجود یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کے مسیحی لوگ آج تک قرآن کریم پر یہ اعتراض کرتے جاتے ہیں اور اس طرح اپنی قلموں سے اس امر کا ثبوت مہیا کر رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کے مصداق تھے (۳) تیسرے وہ کلام ایک عرب کی زبان سے سنایا جائے گا اور غیر زبان یعنی عربی زبان میں سنایا جائے گا کیونکہ وحشی کا لفظ عرب پر دلالت کرتا ہے اوپر پیدائش باب ۱۶ آیت ۱۲ کا حوالہ دیا جاچکا ہے جس میں حضرت ہاجرہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کی خبر دی تھی اس میں لکھا تھا ’’وہ (یعنی اسماعیل) وحشی آدمی ہو گا۔پس وحشی حضرت اسماعیل ؑ کا نام ہے جو بائبل میں آتا ہے اور در حقیقت عرب کا ترجمہ ہے جو تعصب کی وجہ سے بنو اسرائیل نے وحشی