تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 546

میں نہا کے تمکنت سے بیٹھے ہیں۔اس کے رخسارے پھولوں کے چمن اور بلسان کی اُبھری ہوئی کیاری کی مانند ہیں۔اس کے لب سوسن ہیں جن سے بہتا ہوا ُ مر ٹپکتا ہے۔اس کے ہاتھ ایسے ہیں جیسے سونے کی کڑیاں جن میں ترسیس کے جواہر جڑے گئے۔اس کا پیٹ ہاتھی دانت کا سا کام ہے جس پر نیلم کے گل بنے ہوں۔اس کے پیر ایسے جیسے سنگ مرمر کے ستون جو سونے کے پایوں پر کھڑے کئے جاویں۔اس کی قامت لبنان کی سی۔وہ خوبی میں رشک سروہے۔اس کا منہ شیرینی ہے۔ہاں وہ سراپا عشق انگیز ہے۔اے یروشلم کی بیٹیو! یہ میرا پیارا یہ میرا جانی ہے۔‘‘ (غزل الغزلات باب ۵ آیت ۱۰ تا ۱۶) اس پیشگوئی میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بتایا ہے جو تاریخ سے سرخ و سفید ثابت ہے پھر فتح مکہ کا نقشہ کھینچا ہے اوربتایا ہے کہ آپؐ دس ہزار آدمیوں کے ساتھ فتح مندانہ اپنے ملک کو واپس آئیں گے۔یہ دس ہزار آدمی وہی دس ہزار قدوسی ہیں جن کا ذکر استثنا باب ۳۳ کی پیشگوئی میں تصدیق نمبر ۳ میں گزر چکا ہے پھر آخر میں آپ کا نام بھی بتا دیا ہے یعنی محمد۔اس نام کو چھپانے کے لئے بائبل کے مترجموں نے اُردو میں ’’عشق انگیز‘‘ کے الفاظ لکھ دیئے ہیں لیکن عبرانی زبان کے اصل الفاظ جو اس جگہ ہیں اُن کا اردو ترجمہ یوں ہے ’’ہاں وہ محمدیم ہے ‘‘محمدیم میں ی اور م ادب کیلئے بڑھائے گئے ہیں جیسے الوہ جس کے معنے خدا کے ہیں اسے بائبل میں بہت جگہ الوھیم لکھا جاتا ہے پس ہاں وہ محمدیم کے معنے ہیں ہاں وہ بزرگ مـحمّدہے چنانچہ اس پیشگوئی کی وجہ سے یہ دیکھتے ہوئے کہ کئی نشانات ظہور مـحمّدکے ظاہر ہو چکے ہیں لوگ اپنے بچوں کے نام مـحمّدرکھنے لگ گئے تھے چنانچہ مدینہ میں بھی کئی ایک شخص کا نام ان کے والدین نے مـحمّدرکھے ہوئے تھے چنانچہ ان میں سے ایک محمّد بن اُحَیحہ بھی تھے جو صحابہ میں شمار ہوتے ہیں (اُسد الغابۃ زیر اسم محمد بن أُحَیْحَہ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی نے اس پیشگوئی کی بھی تصدیق کی۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ کا کلام نہ اُترتا تو سلیمان علیہ السلام کی یہ پیشگوئی جھوٹی جاتی۔تصدیق نمبر ۵ قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا یسعیاہ نبی کے کلام کی تصدیق کرنا ’’وہ کس کو دانش سکھاوے گا ،کس کو وعظ کر کے سمجھاوے گا۔ان کو جن کا دودھ چھڑایا گیا۔جو چھاتیوں سے جدا کئے گئے۔کیونکہ حکم پر حکم۔حکم پر حکم۔قانون پر قانون، قانون پر قانون ہوتا جاتا۔تھوڑا یہاں۔تھوڑا وہاں۔ہاں وہ وحشی کے سے ہونٹھوں