تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 49
خیال سے متاثر ہو گا اور اس کی اپنی کوشش بھی اپنے سب کاموں میں ایسے ہی راستہ کی تلاش میں خرچ ہو گی۔اعمال کی درستی کے لئے تین زرّیں اصول اور جو شخص اپنے کاموں میں ان اصول کو مدنظر رکھے گا کہ (۱) میرے سب کام جائز ذرائع سے ہوں (۲) میں کسی ایک مقام پر پہنچ کر تسلی نہ پا جائوں بلکہ غیر محدود ترقی کی خواہش میرے دل میں رہے (۳) اور میرا وقت ضائع نہ ہو بلکہ ایسے طریق سے کام کروں کہ تھوڑے سے تھوڑے وقت میں ہر کام کو پورا کر لوں۔اس کے مقاصد کی بلندی اور اس کے اعمال کی درستی اور اس کی محنت کی باقاعدگی میں کیا شک کیا جا سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر مسلمان اس دعا کو اخلاص سے مانگتے رہیں اور اس کے مطالب کو ذہن نشین کریں تو دعا کے رنگ میں تو جو فائدہ ہو گا وہ تو ہو گا ہی اس کا جو اثر طبعی طور پر مسلمانوں کے دماغ پر ہو گا وہ بھی کچھ کم قابل قدر نہیں ہے۔آیت اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ میں طلب ہدایت کے متعلق ایک اعتراض کا جواب بعض معترض کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہر نماز میںاِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کہنے کا حکم دیا گیاتھا اور ان کے رسول بھی یہ دُعا روزانہ مانگتے تھے پھر کیا انہیں صِرَاطِ مُسْتَقِیْم ملی نہ تھی کہ بار بار یہ دعا مانگتے تھے۔کس قدر مضحکہ خیز یہ اعتراض ہے اور کس قدر تعجب ہے کہ پڑھے لکھے مسیحی اور ہندو بے تکلّفی سے یہ اعتراض بیان کرتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ مسلمان اب اس کا کیا جواب دیں گے! اوّل تو جیسا کہ اوپر ہدایت کے معنے بیان ہو چکے ہیں ہدایت کے معنے صرف کسی بات کے بتانے کے نہیں ہوتے بلکہ بتانے۔اُس تک لے جانے اور آگے ہو کر لئے چلے جانے کے ہوتے ہیں۔ہدایت کے غیر محدود درجات پس مختلف قسم کے دعا کرنے والوں کے لئے اس کے مختلف معنے ہوںگے وہ جنہیں ہدایت کا علم بھی ابھی حاصل نہیں ہوا ان کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اس کے یہ معنی ہوںگے کہ ہمیں بتا کہ ہدایت کیا ہے اور کس مذہب یا کس طریق میں ہے ؟اور جن لوگوں کو ہدایت کا علم تو ہو چکا ہے لیکن اس کے قبول کرنے میں ان کے لئے مشکلات ہیں نفس میں کمزوری ہے یا دوست احباب ایسے مخالف ہیں کہ صداقت قبول کرنے سے باز رکھ رہے ہیں یا رہبرِ کامل دُور ہے اور اس تک پہنچنا مشکل ہے یا اس علاقہ میں صحبتِ صالح میسّر نہیں اس شخص کے لحاظ سے اس دعا کے یہ معنے ہوںگے کہ مجھے ہدایت تک پہنچا دے یعنی علمی رنگ میں تو میں ہدایت کو سمجھ گیا ہوں مگر عملی طورپر اس کے اختیار کرنے میں جو دقتیں ہیں انہیں بھی دور کر دے۔لیکن اگر کوئی ایسا شخص ہے جسے علمی طور پر بھی