تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 519

ان کا لڑکا ایک دنیا دار آدمی تھا اس کی تخت نشینی پر بنی اسرائیل کے سردار اس کے پاس ملنے آئے اور اس سے قانون میں بعض نرمیاں کرنے کی درخواست کی اِس پر اُس نے اپنے نوجوان دوستوں کے مشورہ سے انہیں سخت جواب دیا اور دھتکار کر دربار سے رخصت کر دیا اس پر بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے دس کے سرداروں نے دربار سے باہر نکلتے ہی بغاوت کا فیصلہ کر لیا اور رحبعام بن سلیمان سے باغی ہو گئے اوررحبعام کے ماتحت صرف یہود کا علاقہ (جسے اب فلسطین کہتے ہیں) اور یہودا اور بن یامین دو قبیلوں کے آدمی رہ گئے جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت دائود یہودا کے قبیلہ میں سے تھے اور بن یامین کے قبیلہ میں وہ پیدا ہوئے تھے اور انہیں کی مدد سے انہوں نے پہلے یہودا قبیلہ کے علاقہ کو اور پھر باقی اسرائیل کے علاقہ کو فتح کیا تھا (زیر لفظ David جوئش انسائیکلو پیڈیا) پس ان دونوں قبیلوں میں آپس میں بہت جوڑ تھا اور اس بغاوت کے وقت میں وہ اکٹھے رہے۔اس بغاوت کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسرائیلیوں کی دو حکومتیں ہو گئیں ایک اس وجہ سے کہ حضرت دائود یہودا قبیلہ میں سے تھے (۱۔تو اریخ باب ۱۔۳ و ۹ تا ۱۵ نیز متی باب ۱ آیت ۲ ولوقا باب۳ آیت ۳۳) اورجو یہودا کے علاقہ میں رہتے تھے یہودیہ کہلائی اس میں یہود اور بن یامین قبائل کے افراد شامل تھے (۲۔تواریخ باب ۱۱ آیت ۱) اور دوسری اس وجہ سے کہ اسرائیل کے اکثر قبائل اس میں شامل تھے اسرائیل کی حکومت کہلائی۔یہودیہ حکومت کا زور فلسطین میں تھا تو اسرائیل کی حکومت کا شمالی فلسطین اور مغربی شام کی طرف۔اس اختلاف کے بعد اسرائیل کی حکومت متواتر بت پرستی کی طرف راغب ہوتی گئی اور تورات کے علماء اسے چھوڑ کر یہودیہ کی طرف بھاگ آئے اور موسوی مذہب کا گڑھ یہودیہ کی حکومت بن گئی جو آہستہ آہستہ موسوی مذہب کی واحد علمبردار ہو گئی چنانچہ پہلے تو اسرائیل کی حکومت کے باشندوں اور یہودیہ کی حکومت کے باشندوں میں فرق کرنے کے لئے یہودیہ کے باشندوں کو یہودی کہا جانے لگا لیکن جوںجوں مذہبی اختلاف کی خلیج بڑھتی گئی یہودی کا لفظ مقام رہائش کو بتانے کی بجائے مذہب کو بتانے کے لئے استعمال ہونے لگا اور عُزیر اور نحمیاہ دو نبیوں کے ذریعہ سے جب یہودیہ دوبارہ بسایا گیا اور مذہب موسوی کی باگ ڈور کلی ّطور پر یہودا کے لوگوں کے ہاتھ میں آ گئی تو یہودی کا لفظ نسلی امتیاز یا مقام رہائش کے معنوں سے بالکل الگ ہو کر مذہب (موسوی کے پیرو) کے معنوںمیں استعمال ہونے لگا کیونکہ اس زمانہ سے موسوی مذہب کا احیاء صرف یہودا کے لوگوں کے ذریعہ سے ہی ہوتا تھا اور جب یہ لفظ خالص مذہبی معنوں میں استعمال ہونے لگا تو اس کا اطلاق ان غیراسرائیلی لوگوں پر بھی کیا جانے لگا جو نسلاً تو اسرائیلی نہ تھے لیکن مذہباً موسوی مذہب کے پیرو تھے۔پھر حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں جبکہ اسرائیلیوں کا ایک حصہ حضرت مسیح پر ایمان لے آیا تو اسرائیلیوں کی بھی دو