تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 518

مدینہ کے ایسے بچے تھے جن کو یہودی بنایا گیا تھا تو انصار نے ان کو ان کے ساتھ بھیجنے سے انکار کیا۔<mark>اس</mark> وقت یہ آیت لَااِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ نازل ہوئی کہ مذہب کے بارے میں کوئی جبر نہیں کیا جا سکتا۔(ابو داؤد کتاب الجہاد باب فی ال<mark>اس</mark>یر یکرہ علی ال<mark>اس</mark>لام) موسوی مذہب کے بنی <mark>اس</mark>رائیل کے لئے مخصوص ہونے کے معنے خلاصہ یہ ہے کہ موسوی مذہب کے بنی <mark>اس</mark>رائیل کیلئے مخصوص ہونے کے یہ معنے نہیں کہ کوئی <mark>غیر</mark> <mark>اس</mark>رائیلی کبھی یہودی ہو ہی نہ سکتا تھا بلکہ خود حضرت موسیٰ کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق غلام یا تابع رہنے والے لوگ اگر موسوی دین پر عمل کریں اور ختنہ کرالیں تو وہ موسوی مذہب میں داخل ہو سکتے تھے۔موسوی مذہب کے <mark>اس</mark>رائیلیوں تک مخصوص ہونے کے صرف یہ معنے ہیں کہ یہ مذہب تبلیغی نہیں اور انہیں حکم نہیں کہ دوسری قوموں میں جا کر تبلیغ کریں اور <mark>اس</mark> میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص ترقیات کے وعدے ہیں وہ <mark>اس</mark>رائیلیوں کے لئے ہیں۔دوسری اقوام کو طفیلی اور تابع کے طور پر اگر کامل طور پر ان سے مل جائیں حصہ دیا جا سکتا ہے برخلاف <mark>اس</mark>لام کے کہ <mark>اس</mark> کے پیروئوں کو تبلیغ کرنے اور <mark>اس</mark>تثنائی طور پر نہیں بلکہ قاعدہ کلیہ کے طور پر ساری دنیا میں <mark>اس</mark>لام پھیلانے کا حکم ہے اور <mark>اس</mark> میں داخل ہونے والوں سے کوئی وعدہ نہیں جو صرف عربوں سے مخصوص ہو بلکہ ہر وعدہ اپنی انتہائی صورت میں <mark>اس</mark>ی طرح <mark>غیر</mark> عربوں کے لئے ہے جس طرح کہ عربوں کے لئے۔خلاصہ یہ کہ چونکہ موسوی دین کے تابع لوگوں کو <mark>اس</mark>تثنائی صورتوں میں <mark>غیر</mark> <mark>اس</mark>رائیلیوں کو بھی اپنے دین میں شامل کرنے کی اجازت تھی اور محدود تعداد <mark>غیر</mark> قوموں کی ان میں شامل بھی ہوتی رہتی تھی <mark>اس</mark> لئے ضروری تھا کہ بنی <mark>اس</mark>رائیل کے سوا ان کا کوئی اور نام بھی ہوتا جس کے ذریعہ سے <mark>اس</mark> کے افراد کی قوم کی طرف نہیں بلکہ مذہب کی طرف نسبت ثابت کی جاتی۔<mark>اس</mark> غرض کو پورا کرنے کے لئے آہستہ آہستہ یہودی کے لفظ کو اختیار کیا گیا۔بنی <mark>اس</mark>رائیل کے علاوہ لفظ یہود کو اختیار کرنے کی وجہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب زمانہ میں چونکہ ایسے لوگ بہت کم تھے جو باوجود <mark>غیر</mark> <mark>اس</mark>رائیلی ہونے کے یہودی مذہب قبول کریں انہیںاپنے اندر رہنے والے <mark>غیر</mark> یا بیگانہ کے لفظ سے یاد کیا جاتا تھا مگر جب حضرت دائود علیہ السلام کے ذریعہ سے بنی <mark>اس</mark>رائیل میں حکومت آ گئی اور ان کی حکومت کا حلقہ وسیع ہو گیا اور <mark>غیر</mark> قومیں <mark>اس</mark>رائیلیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگیں اور <mark>اس</mark>رائیلی حکومت تلے بسنے والوں میں سے ایک خاصے طبقے نے موسوی مذہب اختیار کر لیا تب یہ ضرورت بشدت محسوس ہوئی کہ <mark>اس</mark>رائیل کے سوا کوئی اور نام بھی ہو جو ایسے لوگوں پر بھی مشتمل ہو۔<mark>اس</mark> نام کا انتخاب بعض سی<mark>اس</mark>ی حالات نے خود ہی کر دیا اور وہ <mark>اس</mark> طرح کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد