تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 518
مدینہ کے ایسے بچے تھے جن کو یہودی بنایا گیا تھا تو انصار نے ان کو ان کے ساتھ بھیجنے سے انکار کیا۔اس وقت یہ آیت لَااِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ نازل ہوئی کہ مذہب کے بارے میں کوئی جبر نہیں کیا جا سکتا۔(ابو داؤد کتاب الجہاد باب فی الاسیر یکرہ علی الاسلام) موسوی مذہب کے بنی اسرائیل کے لئے مخصوص ہونے کے معنے خلاصہ یہ ہے کہ موسوی مذہب کے بنی اسرائیل کیلئے مخصوص ہونے کے یہ معنے نہیں کہ کوئی غیر اسرائیلی کبھی یہودی ہو ہی نہ سکتا تھا بلکہ خود حضرت موسیٰ کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق غلام یا تابع رہنے والے لوگ اگر موسوی دین پر عمل کریں اور ختنہ کرالیں تو وہ موسوی مذہب میں داخل ہو سکتے تھے۔موسوی مذہب کے اسرائیلیوں تک مخصوص ہونے کے صرف یہ معنے ہیں کہ یہ مذہب تبلیغی نہیں اور انہیں حکم نہیں کہ دوسری قوموں میں جا کر تبلیغ کریں اور اس میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص ترقیات کے وعدے ہیں وہ اسرائیلیوں کے لئے ہیں۔دوسری اقوام کو طفیلی اور تابع کے طور پر اگر کامل طور پر ان سے مل جائیں حصہ دیا جا سکتا ہے برخلاف اسلام کے کہ اس کے پیروئوں کو تبلیغ کرنے اور استثنائی طور پر نہیں بلکہ قاعدہ کلیہ کے طور پر ساری دنیا میں اسلام پھیلانے کا حکم ہے اور اس میں داخل ہونے والوں سے کوئی وعدہ نہیں جو صرف عربوں سے مخصوص ہو بلکہ ہر وعدہ اپنی انتہائی صورت میں اسی طرح غیر عربوں کے لئے ہے جس طرح کہ عربوں کے لئے۔خلاصہ یہ کہ چونکہ موسوی دین کے تابع لوگوں کو استثنائی صورتوں میں غیر اسرائیلیوں کو بھی اپنے دین میں شامل کرنے کی اجازت تھی اور محدود تعداد غیر قوموں کی ان میں شامل بھی ہوتی رہتی تھی اس لئے ضروری تھا کہ بنی اسرائیل کے سوا ان کا کوئی اور نام بھی ہوتا جس کے ذریعہ سے اس کے افراد کی قوم کی طرف نہیں بلکہ مذہب کی طرف نسبت ثابت کی جاتی۔اس غرض کو پورا کرنے کے لئے آہستہ آہستہ یہودی کے لفظ کو اختیار کیا گیا۔بنی اسرائیل کے علاوہ لفظ یہود کو اختیار کرنے کی وجہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب زمانہ میں چونکہ ایسے لوگ بہت کم تھے جو باوجود غیر اسرائیلی ہونے کے یہودی مذہب قبول کریں انہیںاپنے اندر رہنے والے غیر یا بیگانہ کے لفظ سے یاد کیا جاتا تھا مگر جب حضرت دائود علیہ السلام کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں حکومت آ گئی اور ان کی حکومت کا حلقہ وسیع ہو گیا اور غیر قومیں اسرائیلیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگیں اور اسرائیلی حکومت تلے بسنے والوں میں سے ایک خاصے طبقے نے موسوی مذہب اختیار کر لیا تب یہ ضرورت بشدت محسوس ہوئی کہ اسرائیل کے سوا کوئی اور نام بھی ہو جو ایسے لوگوں پر بھی مشتمل ہو۔اس نام کا انتخاب بعض سیاسی حالات نے خود ہی کر دیا اور وہ اس طرح کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد