تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 514
شہادت پیدا کرنے میں دو فائدے تھے۔ایک تو وحی کے اجراء کا ثبوت، دوسرے اس امر کا ثبوت کہ اس سلسلۂ نبوت کے بعد وحی الٰہی کا بنو اسماعیل کی طرف منتقل ہونا لازمی اور ضروری تھا پس وحی نبوت کا اجراء ہی ثابت نہیں بلکہ اس کا آخری زمانہ کے مورد کا بنو اسمٰعیل اور عرب میں ہونا بھی ضروری تھا۔چنانچہ اس دلیل کو بیان کرنے کے لئے اس رکوع سے بنو اسرائیل کو مخاطب کر لیا گیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ اے بنی اسرائیل! تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو او راس امر کی سچی گواہی دو کہ خدا تعالیٰ کا الہام دنیا میں ہمیشہ نازل ہوتا رہا ہے اور تم بھی اس کے مہبط رہے ہو۔بلکہ یہ بھی کہ تمہاری کتب میں یہ بھی موجود ہے کہ ایک دن وحی ِ الٰہی کا سلسلہ تم سے ہٹ کر تمہارے بھائیوں یعنی بنی اسمٰعیل کی طرف منتقل ہو جائے گا۔اسرائیل لفظ بنواسرائیل کی وضاحت پیشتر اس کے کہ میں اس اجمال کی تفصیل بیان کروں۔مَیں بنو اسرائیل کے لفظ کی وضاحت کر دینا چاہتا ہوں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چھوٹے بیٹے اسحاق علیہ السلام تھے۔ان کے بیٹے کا نام یعقوب (علیہ السلام) تھا۔جو حضرت یوسف علیہ السلام کے والد تھے۔حضرت یعقوبؑ یہود میں خاص حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی قوم کا نسلی امتیاز انہی کے نام سے قائم ہے۔اسرائیل کا نام خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں ملا تھا جس کی وجہ سے ان کی اولاد بنی اسرائیل یعنی اسرائیل کی اولاد کہلائی۔بائبل میں لکھا ہے کہ یعقوب علیہ السلام سے ایک سفر کے دوران میں رات کے وقت ایک شخص نے کشتی لڑنی شروع کی اور ساری رات کشتی لڑتا رہا۔بائبل کے بیان کے مطابق وہ کُشتی لڑنے والا خدا تعالیٰ تھا۔(پیدائش باب ۳۲ آیت ۳۰) صبح کے وقت اس ُکشتی لڑنے والے نے حضرت یعقوبؑ سے ان کا نام پوچھا تو انہو ںنے یعقوب نام بتایا اس پر اس نے کہا کہ ’’تیرا نام آگے کو یعقوب نہیں بلکہ اسرائیل ہو گا کہ تو نے خدا اور خلق پاس قوت پائی اور غالب ہوا۔‘‘ (پیدائش باب ۳۲ آیت ۲۸) بائبل کے شارحین کُشتی لڑنے والے کو فرشتہ کہتے ہیں گو اس کا کوئی ثبوت نہیں دیتے بہرحال وہ فرشتہ ہو یا خدا تعالیٰ کوعالم تمثیل میں انہوں نے دیکھا ہو۔لفظ اسرائیل کے معنی اس نے حضرت یعقوبؑ کو اسرائیل کا نام دیا۔اور اس کے معنے بھی بتا دیئے کہ خدا تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک وہ قوی سمجھا گیا اور غالب ہوا۔پس اسرائیل کے معنے بائبل کے بیان کے مطابق خدا کا قوی بندہ یا خدا کا غالب بندہ ہیں۔لغت کے معنے حَلِّ لُغَات میں بتائے جا چکے ہیں کہ خدا کے جنگجو بہادر یا قوی سپاہی کے ہیں