تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 513

اِرْھَبُوْنِ کے معنے ہیں۔مجھ سے ڈرو۔تفسیر۔ترتیب مضمون آدم علیہ السلام کی مثال دے کر یہ بتایا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ کوئی نیا دعویٰ نہیں بلکہ جب بشر کی عقل مکمل ہوئی اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام پر الہام نازل کیا تھا۔اس کے بعد یہ سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جب شروع میں الہام نازل کر دیا تو پھر اور کسی الہام کی کیا ضرورت ہے کیا وہ الہام کافی نہیں؟ یہ سوال عام ہے اور اکثر نبوت کے مخالف بلکہ پُرانے مذہب کے مدعیان بھی یہ اعتراض کرتے چلے آتے ہیں۔مخالفین نبوت کے اعتراض کی غرض تو صرف نبوت میں شک پیدا کرنا ہوتی ہے وہ اس اعتراض سے صرف یہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ موجودہ مدّعی غلطی پر ثابت ہو گا سابق کا کوئی دعویدار اور نائب موجود ہی نہیں کہ اس کی اطاعت کا سوال ہو لیکن جو مذاہب قدیم ہیں ان کی غرض اس سوال سے یہ ہوتی ہے کہ ہمارے مذہب کی موجودگی میں اور کسی نبی کی ضرورت نہیں۔اس سوال کا دو طرح جواب دیا جا سکتا ہے ایک اس طرح کہ عقلاً نبوت کی ضرورت ثابت کی جائے۔دوسرے اس طرح کہ واقعات کی شہادت سے ثابت کر دیا جائے کہ نبوت آدم علیہ السلام کے بعد بھی جاری رہی۔قرآن کریم نے نبوت کے اجراء کی ضرورت کو عقلی طور پر کئی دوسرے مقامات پر ثابت کیا ہے مگر اس جگہ دوسرے طریق جواب کو اختیار کیا ہے اور بتایا ہے کہ اسلام کے قریب زمانہ تک نبوت کے مدّعی ہوتے رہے ہیں پس یہ کہنا کہ پہلی شریعت کے بعد اور کسی شریعت یا وحی نبوت کی ضرورت نہیں درست نہیں۔جن لوگوں کی صداقت شواہد اور دلائل سے ثابت ہو چکی ہو ان کے دعویٰ کا انکار کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ اور اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچے تھے تو پہلی وحی کے بعد دوسرے زمانوں کی وحیوں کا انکار کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ اور اگر پہلی وحی کے بعد بھی الہام ہوتا رہا بلکہ اسلام کے قریب زمانہ تک بھی خدا تعالیٰ کے نبی آتے رہے تو پھر اسلام کی وحی پر اس بناء پر اعتراض کرنا کہ پہلی وحی کے بعد دوسری وحی کی ضرورت نہیں کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ آدم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو مخاطب کرنے کی وجہ اس طریق جواب کو اختیار کرنے میں ایک مزید فائدہ بھی تھا اور وہ یہ کہ قرآن کریم کے پہلے مخاطبین میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو یہودی مذہب یا عیسوی مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور انہی کے نبیوں کو قرآن کریم نے وحی کے جاری ہونے کے ثبوت میں پیش کیا ہے اس سلسلۂ نبوت کی ایک کڑی جس کے بغیر ان پہلے نبیوں کی تکمیل نہیں ہو سکتی بنو اسمٰعیل میں ایک نبی کا وجود بھی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے یہ خبر دی گئی تھی کہ بنو اسماعیل میں بھی ایک نبی ہو گا۔اور موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بعد کے نبیوں نے اس نبی کی آمد کی مزید وضاحت کی تھی۔پس ان انبیاء کی وحی کو بطور