تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 512
وَ بِالْفَتْحِ لِلْمَرَّۃِ۔اور کلیاتِ اَبی البقاء میں یوں لکھا ہے کہ نعمت اصل وضع کے لحاظ سے اس حالت کو کہتے ہیں جس سے انسان لذّت اُٹھاتا ہے اور یہ اس بناء پر ہے کہ حالت بیان کرنے کے لئے عربی زبان میں فِعْلَۃٌ اور کسی کام کے ایک ہونے کا اظہار کرنے کے لئے فَعْلَۃٌ کا وزن لاتے ہیں اور نِعْمَۃٌ ن کی زیر سے چونکہ فِعْلَۃٌ کے وزن پر ہے اس لئے اس میں نعمت والی حالت کے معنے پائے جاتے ہیں۔وَنِعْمَۃُ اللّٰہِ۔مَا اَعْطَاہُ اللّٰہُ لِلْعَبْدِ مِـمَّالَایَتَمَنّٰی غَیْرَہٗ اَنْ یُّعْطِیَہٗ اِیَّاہُ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اپنے بندے پر وہ احسان ہے جس کے بعد بندہ اس کے متعلق کسی اور سے خواہش نہیں رکھتا۔اس کی جمع اَنْعُمٌ اور نِعَمٌ آتی ہے اور جب فُـلَانٌ وَاسِعُ النِّعْمَۃِ کہیں تو اس کے معنے ہوں گے وَاسِعُ الْمَالِ یعنی فلاں مالدار ہے۔(اقرب) اَلْعَھْدُ۔اَلْعَھْدُکے مصدری معنے ہیں حِفْظُ الشَّیْ ءِ وَ مُرَاعَاتُہٗ حَالًا بَعْدَ حَالٍ۔کسی چیز کی حفاظت کرنا اور وقتاً فوقتاً اس کی دیکھ بھال کرتے رہنا۔وَسُمِّیَ الْمَوْثِقُ الَّذِیْ یَلْزَمُ مُرَاعَا تُہٗ عَھْدًا۔اور اس عہد و پیمان کو جس کی ہر لحاظ سے حفاظت کی جائے عہد کے نام سے موسوم کرتے ہیں وَعَھْدُ اللّٰہِ تَارَۃً یَکُوْنُ بِمَا رَکَزَہٗ فِیْ عُقُوْلِنَا اور اللہ تعالیٰ کا بندوں سے عہد تین طور پر ہے (۱) یہ کہ بعض باتیں اس نے فطرت انسانی میں رکھ دی ہیں اور اس عہد کی حفاظت اس طور پر کی جا سکتی ہے کہ خلاف فطرت کام نہ کیا جائے (۲) وَتَارَۃً یَکُوْنُ بِمَا اَمَرَنَا بِہٖ بِالْکِتَابِ وَبِسُنَّۃِ رُسُلِہٖ اور کبھی اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں سے عہد لینے سے یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ باتیں جو اس نے اپنی نازل کردہ کتاب اور اپنے رسولوں کی سنت کے ذریعہ ہمارے پاس بھیجی ہیں ہم ان کو بجالائیں (۳) وَتَارَۃً بِمَا نَلْتَزِمُہٗ بعض اوقات اس بات کو بھی عہد کہہ دیتے ہیں جو برضاور غبت اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے ذمہ لگالیا جائے کہ میں خدا تعالیٰ کی خاطر فلاں جائز کام ضرور کروں گا۔(مفردات) تاج العروس میں ہے اَلْعَھْدُ اَلْوَصِیَّۃُ وَالْاَمْرُ کہ عہد کے معنے کسی تاکیدی حکم کے ہوتے ہیں نیز اس کے معنے ہیں اَلْمَوْثِقُ وَ الْیَمِیْنُ پکا عہد و پیمان۔قسم۔اَلْحِفَاظُ وَرِعَایَۃُ الحُرْمَۃِ کسی بات کی حفاظت اور اس کی حرمت کی نگہداشت کرنا۔اَ لْاَمَانُ۔امان۔اَلذِّ مَّۃُ۔ذمّہ۔اَ لْاِلْتِقَاءُ۔ملنا۔ملاقات۔اَلْمَعْرِفَۃُکسی چیز کو جاننا۔اَلزَّمَانُ۔زمانہ۔اَلْوَفَاءُ۔وفا۔تَوْحِیْدُ اللّٰہِ تَعَالٰی۔اللہ تعالیٰ کو واحد گرداننا۔اَلضَّمَانُ۔ضمانت۔اَلَّذِیْ یُکْتَبُ لِلْوُلَاۃِ۔پروانۂ شاہی جو کسی شخص کو کسی ملک کا حاکم مقرر کرتے وقت لکھ کر دیا جاتا ہے۔(تاج) اِرْھَبُوْنِ۔اِرْھَبُوْا۔جمع مخاطب کا صیغہ امر ہے اور رَھِبَ الرَّجُلُ (یَرْھَبُ رَھْبَۃً) کے معنے ہیں خَافَ ڈر گیا (اقرب) اِرْھَبُوْنِ اصل میں اِرْھَبُوْنِیْ تھا۔ی کو گراد یا گیا اور نونِ وَقایَۃ کے کسرہ پر اکتفا کیا گیا۔