تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 505

تفسیر۔اس آیت میں اِھْبِطُوْا جمع کا لفظ ہے جس سے ظاہر ہے کہ اس جنت میں صرف آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی نہ تھے بلکہ آدم کے اتباع بھی تھے۔اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدم کی اولاد میں ہادی پیدا ہوتے رہیں گے اس آیت میں وعدہ کیا گیا ہے کہ آدم کی اولاد میں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو لوگوں کو نیکی اور ہدایت کی طرف بلاتے رہیں گے اور ایسے لوگ جو ہدایت کو مان لیںگے وہ اسی دنیا میں جنت میں آ جائیں گے یعنی ان کے دلوںمیں ایسی ایمانی قوت پیدا ہو جائے گی کہ ہر حالت میں ان کے دل مطمئن رہیں گے اور خوف یعنی آئندہ نقصانات کا ڈر اورحُزن یعنی پچھلے نقصانات پر افسوس ان کو غمگین نہ کر سکے گا بلکہ ان کا دل جنت کا قائم مقام ہو جائے گا اور ماَبعدَالموت الٰہی انعامات کے وارث ہوں گے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آدم علیہ السلام کے بعد وحی کا سلسلہ ختم نہیں ہو گیا بلکہ اسی وقت سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے کہ آئندہ بھی وحی الٰہی آتی رہے گی اور اس کے ماننے والوں پر اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے رہیںگے۔وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ اور جو (لوگ) کفر کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے وہ دوزخ (میںپڑنے )والے ہیں هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَؒ۰۰۴۰ اور وہ اس میں بسیں گے۔حَلّ لُغَات۔کَذَّبُوْا۔کَذَّ بَ سے جمع کا صیغہ ہے۔اور کَذَّ بَ کے معنے ہیں جَعَلَہٗ کَاذِبًا وَنَسَبَہٗ اِلَی الْکِذْ بِ اُسے جھٹلایا۔اور اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی۔وَقِیْلَ قَالَ لَہٗ کَذَبْتَ اور بعض نے کہا ہے کہ کَذَّبَ کے معنے ہیں کسی کو یہ کہا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے اور جب کَذَّبَ بِا لْاَ مْرِتَکْذِیْبًا وَکِذَّابًا کا فقرہ بولیں تو معنے یہ ہوںگے اَنْکَرَہٗ وحَجَدَہٗ کہ کسی معاملہ کا انکار کیا۔(اقرب) پس کَذَّبُوْا کے معنے ہوں گے انہوں نے جھٹلایا۔اٰیٰتٌ۔اٰیَۃٌ کی جمع ہے اور اٰیَۃٌ کے معنے علامت، نشان اور دلیل کے ہوتے ہیں نیز قرآن کریم کے ہر ایسے ٹکڑے کو جسے کسی لفظی نشان کے ساتھ دوسرے سےجدا کر دیا گیا ہو اٰیَۃٌ کہتے ہیں۔(تاج) خٰلِدُوْنَ۔خٰلِدُوْنَ کی تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۲۶۔