تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 504
کرے کہ جب وہ کسی مصیبت یا مشکل میں گرفتار ہو تو آدم اور دوسرے بزرگوں کی طرح اللہ تعالیٰ خود ہی اسے وہ دعا سکھلا دے جس کے مانگنے سے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کر سکے۔قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا١ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى فَمَنْ ہم نے کہا (جاؤ) اس میں سے سب کے سب نکل جاؤ (اور یاد رکھو کہ ) پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۰۰۳۹ ہدایت آئے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ تو کوئی خوف (ہوگا)اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔حَلّ لُغَات۔اِمَّا۔اِمَّا اِنْ اور مَاسے مرکب ہے (مغنی) اِنْ حرف شرط ہے۔اور مَا تاکید کے لئے زائد لایا گیا ہے۔ھُدًی۔ھُدًی کے لئے دیکھو حَلّ لُغات سورۃ الفاتحۃ آیت۶ اور حل لغات سورۃ البقرۃ آیت۳۔خَوْفٌ۔خَوْفٌ کے معنے ہیں اِنْفِعَالٌ فِی النَّفْسِ یَحْدُثُ لِتَوَقُّعِ مَایَرِدُ مِنَ الْمَکْرُوْہِ اَوْیَفُوْتُ مِنَ الْمَحْبُوْبِکسی آئندہ وقت میں کسی ناپسندیدہ امر کے وقوع پذیر ہونے یا کسی پسندیدہ چیز کے ہاتھ سے چلے جانے کے خیال سے جو طبیعت پر گھبراہٹ طاری ہوتی ہے اسے خوف کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔(اقرب) یَحْزَنُوْنَ۔یَحْزَنُوْنَ حَزِنَ (یَحْزَنُ) حَزَنًا سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور حَزِنَ لَہٗ وَ عَلَیْہِ کے معنے ہیں ضِدُّ سَرَّ غمگین ہوا (اقرب) اَلْحُزْنُ کے معنے ہیں الْغَمُّ غم و اندوہ خِلَافُ السُرُوْرِ خوشی کے متضاد معنے دیتا ہے یعنی غمگینی۔نیز لکھا ہے کہ اَلْحُزْنُ۔اَلْغَمُّ الْحَاصِلُ لِوَ قُوْعِ مَکْرُوْہٍ اَوْ فُوَاتِ مَحْبُوْبٍ فِی الْمَاضِیْ زمانہ ماضی میں کسی ناپسندیدہ امر کے وقوع پذیر ہونے یا کسی پسندیدہ چیز کے ہاتھ سے چلے جانے کی وجہ سے جو طبیعت میں افسوس پیدا ہوتا ہے اُسے حُزن کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔(تاج) مفردات راغب میں ہے۔اَلْحُزْنُ۔خُشُوْنَۃٌ فِی النَّفْسِ لِمَا یَحْصُلُ فِیْہِ مِنَ الْغَمِّ دل کی بیقراری جو غم کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔وَیُضَادُّہُ الْفَرَحُ اور اس کے بالمقابل فَرَح کا لفظ بولا جاتا ہے (مفردات) خوف اور حُزن میں یہ فرق ہے کہ خوف آیندہ زمانے کے متعلق ہوتا ہے اور حُزن کسی گزشتہ واقعہ کی بنا پر ہوتا ہے۔