تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 45
رہے ہیں جبر کے ماتحت ہیں یعنی انسان ان کے کرنے پر مجبور ہے۔یہ خیال مذہبی لوگوں میں بھی ہے اور فلسفیوں میں بھی۔اور اب علم النفس کے ماہرین کا ایک گروہ بھی ایک رنگ میں اس کا قائل ہو رہا ہے اور ان کا سردار ڈاکٹر فرائڈ آسٹرین پروفیسر ہے۔جو لوگ اس عقیدہ پر غلط مذہبی عقیدہ کی وجہ سے قائم ہیں ان کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک ہے جس طرح ایک انجینئر جب عمارت بناتا ہے تو کسی اینٹ کو پاخانہ میں اور کسی کو بالاخانہ میں لگاتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ مختار ہے کہ جسے چاہے نیک بنائے اور جسے چاہے بدکار بنائے۔سو اس نے بعض کو نیک اور بعض کو بدکار بنایا ہے۔مسیحیوں نے ورثہ کا گناہ تسلیم کر کے جبر کے مسئلہ کو رائج کیا ہے کیونکہ جب انسان ورثہ کے گناہ سے کفارہ کے بغیر آزاد نہیں ہو سکتا تو جس قدر لوگ کفارہ پر ایمان نہیں لاتے گناہ گار ہونے پر مجبور ہیں۔تناسخ کا مسئلہ بھی جبر کی تائید میں ہے کیونکہ جو جون سابق گناہ کی سزا میں ملی ہے لازماً ان حدبندیوں کے نیچے رہے گی جو سابقہ گناہ کی وجہ سے اس پر لگا دی گئی ہیں۔اس عقیدہ کا رد کہ انسان اپنے ارادہ میں آزاد ہے فلسفیوں کے عقیدہ کی بنیاد صرف تجربہ پر تھی کہ باوجود کوشش کے بعض لوگ گناہ سے بچ نہیں سکتے لیکن ڈاکٹر فرائڈ نے اس مسئلہ کو علمی مسئلہ بنا دیا ہے۔اس کا خیال ہے کہ چونکہ انسان کی تعلیم کا زمانہ اس کے ارادہ کے زمانہ سے پہلے شروع ہوتا ہے یعنی بچپن سے۔اور ارادہ اور اختیار بلوغ کے وقت پیدا ہوتا ہے اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ اس کا ارادہ آزاد ہے بلکہ جس چیز کو ہم ارادہ کہتے ہیں در حقیقت وہ وہی میلان ہے جو بچپن کے اثرات کے نتیجہ میں اس کے اندر پیدا ہو گیا ہے۔انسان اپنے افعال کو باارادہ اور خیالات کو آزاد سمجھتا ہے لیکن در حقیقت وہ صرف بچپن کے تاثرات کے نتائج ہیں۔اور چونکہ وہ اس کے نفس کا جزو بن گئے ہیں وہ اسے بیرونی اثر خیال نہیں کرتا بلکہ اپنا ارادہ سمجھتا ہے۔ڈاکٹر فرائڈ کے یہ خیالات نئے نہیں۔اسلام میں ان کی سند ملتی ہے جیسے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔مگر اَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْیُنَصِّرَانِہٖ (بخاری کتاب الجنائز باب ما قیل فی اولاد المشرکین) اس کے ماں باپ اسے یہودی یا مسیحی بنا دیتے ہیں۔یعنی ان کی تربیت کے اثر سے وہ بڑا ہونے سے پہلے ان کے غلط خیالات کو قبول کر لیتا ہے اوربے سمجھے بوجھے ان کے راستہ پر چل کھڑا ہوتا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بچہ کی پیدائش پر اس کے کان میں اذان کہنے کا حکم دے کر بچپن کے اثرات کی وسعت اور اہمیت کو ظاہر کیا ہے۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْناور اِیَّاکَ نَعْبُدُ میں قرآن کریم نے ان خیالات کے غلط حصہ کی تردید کی ہے کیونکہ جبر کی