تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 44
ہوتا ہے اور توجہ بھی قائم ہوتی ہے نماز کے لئے کچھ ظاہری علامات بھی مقرر کر دی گئی ہیں۔مگر وہ بمنزلہ برتن کے ہیں۔جس میں معرفت کا دودھ ڈالا جاتا ہے یا بطور چھلکے کے ہیں جس میں عبادت کا مغز رہتا ہے۔آیت ھٰذا میں جمع کا صیغہ استعمال کرنے کی وجہ اس آیت میں اور بعد کی آیات میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔یعنی یوں کہا گیا ہے کہ ’’ہم عبادت کرتے ہیں‘‘ اور ’’ہم مدد مانگتے ہیں‘‘ اور ’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا‘‘ اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام ایک مدنی مذہب ہے وہ سب کے لئے ترقی چاہتا ہے نہ کہ کسی ایک شخص کے لئے اور یہ بھی کہ ہر مسلمان دوسرے کا نگران مقرر کیا گیا ہے۔اس کا یہی کام نہیں کہ وہ خود عبادت کرے بلکہ یہ بھی ہے کہ دوسروں کو عبادت کی تحریک کرے او راس وقت تک تحریک نہ چھوڑے جب تک وہ اس کے ساتھ عبادت کرنے میں شامل نہ ہو جائیں۔اور وہ آپ ہی اللہ تعالیٰ پر توکل نہ کرے بلکہ دوسروں کو بھی توکل کی تعلیم دے اور اس وقت تک بس نہ کرے جب تک وہ توکل میں اس کے ساتھ شامل نہ ہو جائیں اور وہ خود ہی ہدایت کا طالب نہ ہو بلکہ دوسروں کو بھی ہدایت طلب کرنے کی نصیحت کرے او ربس نہ کرے جب تک ان کے دل میں بھی ہدایت طلب کرنے کی تڑپ پیدا ہو کر وہ اس کے ساتھ شامل نہ ہو جائیں اور خود بھی ہر دعا میں ’’مَیں‘‘ کی جگہ ’’ہم‘‘ کا لفظ استعمال نہ کرنے لگیں۔یہی تبلیغی اور تربیتی روح ہے جس نے اسلام کو چند سالوں میں کہیں کا کہیں پہنچا دیا۔اور گر آج مسلمان ترقی کر سکتے ہیں تو صرف اسی جذبہ کو اپنے دل میںپیدا کر کے جب تک مسلمان نَعْبُدُ اور نَسْتَعِیْنُ اور اِھْدِنَا کے الفاظ نہیں کہتے، جب تک ان الفاظ کو سچے طور پر کہنے کیلئے جدوجہد نہیں کرتے، اس وقت تک ان کا نہ دین میں ٹھکانا ہو گا نہ دُنیا میں۔حقیقت یہ ہے کہ عبادت بھی اور اِستعانت بھی اور طلب ہدایت بھی بحیثیت جماعت ہی ہو سکتی ہے کیونکہ اکیلا آدمی صرف ایک محدود عرصہ کے لئے اور ایک محدود دائرہ میں عبادت کو قائم کر سکتا ہے۔ہاں جو اپنی اولاد کو بھی اور اپنے ہمسائیوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیتا ہے وہ عبادت کا دائرہ وسیع کر دیتا ہے اور اس کا زمانہ ممتد کر دیتا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ سچا عبد وہی ہے جو اپنے آقا کی مملو کہ اشیاء کو دشمن کے ہاتھ میں نہ پڑنے دے۔جو اپنے آقا کے باغ کو لٹتے دیکھتا اور اس کیلئے جدوجہد نہیں کرتا وہ ہر گز سچا بندہ نہیں کہلا سکتا۔اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ سے جبر اور قدر کے متعلق غلط خیالات کا ردّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُکی آیت میں جبر اور قدر کے متعلق جو غلط خیالات لوگوں میں پھیل رہے ہیں ان کا بھی ردّ کیا گیا ہے۔انسانی اعمال کے بارہ میں لوگوں میں دو غلط فہمیاں پیدا ہیں۔بعض تو یہ کہتے ہیں کہ جس قدر اعمال انسان سے سر زد ہو