تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 488
خلافِ عقل ہے کہ آدم علیہ السلام کو <mark>ان</mark>تظام تو دنیا کا سپرد کیا گیا اوررکھا <mark>ان</mark>ہیں آسم<mark>ان</mark> پر گیا۔<mark>دوسرے</mark> اس جنت کی نسبت جو بعدالموت ملنے والی ہے خود حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ سورہ حجر میں فرماتا ہے لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ (الحجر:۴۹) یعنی جنت اُخروی میں نہ تو <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>وں کو کسی قسم کی تک<mark>ان</mark> ہو گی اور نہ وہ اُس سے نکالے جائیںگے لیکن آدم علیہ السلام کو جس جنت میں رکھا گیا وہ اس سے نکالے گئے۔پس معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام کی جنت ارضی تھی آسم<mark>ان</mark>ی نہ تھی۔تیسرے یہ کہ آدم علیہ السلام کی جنت میں شیط<mark>ان</mark> کا داخل ہونا ثابت ہے بلکہ اس کی ذرّیت کا بھی۔پس بفرضِ محال آدم کا جنت سماوی میں رکھنا اگر تسلیم بھی کر لیا جائے تو یہ خلافِ عقل ہے کہ آدم کے ساتھ شیط<mark>ان</mark> اور اس کی ذریت کو بھی جنت میں رکھ دیا گیا۔اس آیت سے اس امر کا بھی استدلال ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام پہلے کسی اور جگہ رہتے تھے پھر جب <mark>ان</mark> پر الہام الٰہی نازل ہوا تو اپنی بیوی یا ساتھیوں سمیت اس مقام میں جا بسے جسے جنت کہا گیا ہے کیونکہ آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ اے آدم! تو اور تیرا زوج جنت میں ہی بسو۔پس معلوم ہوا کہ وہ پہلے کسی دوسری جگہ رہتے تھے۔رَغَدًاکی تشریح جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتایا گیا ہے یہ ہے کہ ضروریاتِ زندگی سہولت کے ساتھ اور کثرت کے ساتھ مل جائیں۔اس میں تمدن کی <mark>خوبی</mark> بتائی گئی ہے۔تمدن ہی ہے جو <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کے لئے بافراغت سام<mark>ان</mark>ِ زندگی مہیا کرتا ہے بغیر تمدن کے کھ<mark>ان</mark>ے پینے کی اشیاء کا نہ تو خز<mark>ان</mark>ہ رکھا جا سکتا ہے اور نہ کثرت سے <mark>ان</mark> اشیاء کی پیداوار کی جا سکتی ہے۔حیو<mark>ان</mark>ی زندگی میں ضروری اشیاء کے پیدا کرنے کی طرف توجہ نہیں کی جا سکتی اور نہ <mark>ان</mark> کا ذخیرہ رکھا جا سکتا ہے اور کمی کے وقت <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> تکلیف اُٹھاتا ہے پس <mark>ان</mark> الفاظ میں تمدّن کی <mark>خوبی</mark> کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب تم مل کر رہو گے تو ضروریاتِ زندگی کو کثرت سے پیدا کر سکو گے اور ضرورت کے موقع کے لئے <mark>ان</mark> کا ذخیرہ رکھ سکو گے اور یہی وہ ارضی جنت ہے جس کی بنیاد تمدّن کے ذریعہ سے آدم علیہ السلام کے زم<mark>ان</mark>ہ سے رکھی گئی۔جو قومیں اس تمدّن کی نگہداشت کرتی ہیں <mark>ان</mark> کے تمام افراد آرام سے رہتے ہیں۔اسلام نے اپنے ابتدائی ایام میں اس تعلیم کے مطابق عمل کیا اور مسلم<mark>ان</mark>وں کا بچہ بچہ بھوک اور پیاس اور تنگی کی زندگی سے محفوظ ہو گیا۔بظاہر یہ ایک دنیاوی حکم معلوم ہوتا ہے لیکن حق یہ ہے کہ یہ طریقِ زندگی <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کو گناہ سے بچ<mark>ان</mark>ے والا ہے۔لوُٹ کھسوُٹ اور دھوکے فریب کا بڑا باعث غربت اور بے سرو سام<mark>ان</mark>ی ہوتے ہیں۔جو قوم اپنے تمام افراد کے کھ<mark>ان</mark>ے پینے اور پہننے کا سام<mark>ان</mark> مہیا کر دیتی ہے وہ اس کو گناہ میں پڑنے سے بچا لیتی ہے اور اس بڑے سبب کو جو ظلم اور گناہ کی طرف کھینچتا ہے دُور کر دیتی ہے۔پس گو بظاہریہ کام دنیاوی اور سیاسی <mark>نظر</mark> آتا ہے لیکن حقیقتاً خالص دینی <mark>ان</mark>تظام ہے اور