تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 472

مناسب حال نہ سمجھ کر اس سے انکار کر دینا اور اس سے نفرت کرنا اِبَاء کہلاتا ہے۔(تاج) اِسْتَکْبَرَ۔اِسْتَکْبَرَ الشَّیْ ءَ کے معنی ہیں رَاٰہُ کَبِیْرًا وَعَظُمَ عِنْدَہٗ کسی چیز کو بڑا سمجھا نیز اِسْتَکْبَرَ کے معنے ہیں کَانَ ذَاکِبْرِیَاءٍ بڑا بنا۔مغرور ہوا (اقرب) مفردات میں لکھا ہے۔اَلْکِبْرُ۔اَلْحَالَۃُ الَّتِیْ یَتَخَصَّصُ بِھَا الْاِنْسَانُ مِنْ اِعْجَابِہٖ بِنَفْسِہٖ وَ ذٰلِکَ اَنْ یَّـرَی الْاِنْسَانُ نَفْسَہٗ اَکْبَرَ مِنْ غَیْرِہٖکہ کِبْر اس حالت کو کہتے ہیں کہ جب انسان خود پسند بن کر کسی بات کو اپنے ساتھ مخصوص سمجھ لیتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے ممتاز اور بڑا خیال کرنے لگ جاتا ہے وَالْاِ سْتِکْبَارُ یُقَالُ عَلٰی وَجْھَیْنِ اور اِسْتِکْبَار (اپنے آپ کو بڑا سمجھنا) دو طور پر ہوتا ہے (۱) اَنْ یَّتَحَرَّی الْاِنْسَانُ وَیَطْلُبَ اَنْ یَّصِیْرَ کَبِیْرًا کہ انسان بڑا بننے کی خواہش او رکوشش کرتا ہے (اور یہ اگر مناسب محل و مقام پر کوشش کی جائے تو قابلِ تعریف بات ہوتی ہے) (۲) اَنْ یَّتَشَبَّعَ فَیُظْھِرَ مِنْ نَفْسِہٖ مَالَیْسَ لَہٗ کہ کوئی شخص بعض ایسی باتوں کے ساتھ اپنے نفس کو متصف کرے جو اس میں پائی نہیں جاتیں اور مقصد یہ ہو کہ وہ کسی طرح دوسروں پر فوقیت لے جائے۔(مفردات) کَانَ۔کَانَ اَفعالِ ناقصہ میں سے ہے یہ مبتدا اور خبر پر داخل ہو کر مبتدا کو رَفع اور خبر کو نصب دیتا ہے۔اس سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ ایک فعل گزشتہ زمانے میں سرزد ہو کر ختم ہو گیا۔بعض اوقات اس کے معنے صرف کسی بات کے حدُوث اور وُقو ع کے ہوتے ہیں اس وقت اس کی خبر نہیں آتی۔چنانچہ کہہ دیتے ہیں کَانَ الْاَمْرُ کہ فلاں کام ہو چکا۔علاوہ ازیں یہ کئی اور معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے ان میں سے ایک معنی صَارَ کے ہیں یعنی ہو گیا۔(اقرب) چنانچہ کَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ میں کَانَ کے معنی صَارَ کے بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ کافروں میں سے ہو گیا۔اور یہ بھی کہ کافروں میں سے تھا۔اَلْکَافِرِیْنَ۔اَلْکَافِرِیْنَ کَفَرَ سے اسم فاعل کَافِرٌ آتا ہے اور کَافِرُوْنَ اور کَافِرِیْنَ اس کی جمع ہے مزید تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۷۔تفسیر۔آیت وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا میں سجدہ کرنے کا حکم پیشتر اس کے کہ اس آیت کی مجموعی تفسیر بتائی جائے یہ واضح کر دینا مناسب ہو گا کہ اس آیت میں سجدہ کرنے سے کیا مراد ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا کسی صورت میں جائز نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَهُنَّ (حٰم سجدة :۳۸) یعنی نہ تو سورج کو سجدہ