تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 467

قدر ایسے وجود میں پائی جا سکتی ہے جو خیر و شر دونوں کی مقدرت رکھتا ہو وہ قابلیت ان وجودوں میں نہیں ہو سکتی جو صرف خیر کا ہی مادہ رکھتے ہوں اور شر کو اختیار کرنے کی مقدرت ان میں نہ ہو۔فرشتوں نے اس حقیقت کو سمجھا اور عَلِیْم کے ساتھ حَکِیْم کا لفظ لگا کر اقرار کیا کہ خدا تعالیٰ کی صفت علیم کا کامل مظہر وہ نہیں ہوسکتے بلکہ انسان ہی ہو سکتا ہے اس لئے اس کی پیدائش خدا تعالیٰ کی صفت حکیم کے ماتحت ہے یعنی بڑی بھاری حکمت اپنے اندر رکھتی ہے۔آدم کے واقعہ کی تفصیل بیان کرنے کی غرض جیسا کہ اوپر کی تشریحات سے ثابت ہے کہ آدم کے واقعہ کی اس تفصیل کے بیان کرنے سے پیدائش عالم کی غرض اور حکمت بتانا مقصود ہے اور یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ ہر زمانہ میں الہامِ الٰہی کا نزول اسی غرض کو پورا کرنے کے لئے ہوتا ہے اور جو لوگ نبیو ںکی بعثت پر معترض ہوتے ہیں وہ گویا دوسرے الفاظ میں اس امر پر معترض ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی غرض کو کیوں پورا کرنے لگا ہے اور یہ اعتراض ان کا ایسا بودا ہے کہ اس کی بناء پر نبوت کے سلسلہ کو منقطع نہیں کیا جا سکتا۔یہ جو ملائکہ نے کہا کہلَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ہمیں اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھایا اس کا یہ مفہوم نہیں کہ جو تو نے ہمیں سکھایا ہے اسی قدر ہمیں علم ہے کیونکہ یہ تو ایک ظاہر حقیقت ہے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہمارا علم اس طرح بڑھتا نہیں جس طرح کہ انسان کا بڑھتا ہے اور اسے اس کے بڑھانے کی مقدرت حاصل ہے اور دوسرے یہ کہ ہمارے اندر وہی طاقتیں ہیں جو تو نے ہمارے اندر رکھی ہیں اور ان طاقتوں کے ساتھ ہم انسان کے مُتَنَوّع اور جامع علوم کو نہیں پہنچ سکتے یعنی ہم یہ سمجھ گئے ہیں کہ انسان کی پیدائش میں حکمت ہے اور اس کے سپرد ایک ایسا کام ہے جو ہم بھی نہیں کر سکتے اس لئے اگر بعض انسان خونریزی کرنے والے ہوں یا خونریزی کا موجب بننے والے ہوں یا شریروں کی شرارتوں کو روکنے کے لئے جائز خونریزی پر مجبور ہوں تب بھی انسان کی پیدائش ضروری اور حکیمانہ فعل ہے۔قَالَ يٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ١ۙ (اس پر اللہ نے )فرمایا اے آدم ان (فرشتوں)کو ان (چیزوں) کے نام بتا پھر جب اس (یعنی آدم) نے ان کو ان قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ کے نام بتائے (تو) فرمایا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں یقیناًآسمانوں اور زمین کی چھپی باتیں جانتا ہوں اور