تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 467
قدر ایسے وجود میں پائی جا سکتی ہے جو خیر و شر دونوں کی مقدرت رکھتا ہو وہ قابلیت <mark>ان</mark> وجودوں میں نہیں ہو سکتی جو صرف خیر کا ہی مادہ رکھتے ہوں اور شر کو اختیار کرنے کی مقدرت <mark>ان</mark> میں نہ ہو۔فرشتوں نے اس حقیقت کو سمجھا اور عَلِیْم کے ساتھ حَکِیْم کا لفظ لگا کر اقرار کیا کہ خدا تعالیٰ کی صفت علیم کا کامل مظہر وہ نہیں ہوسکتے بلکہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> ہی ہو سکتا ہے اس لئے اس کی پیدائش خدا تعالیٰ کی صفت حکیم کے ماتحت ہے یعنی بڑی بھاری حکمت اپنے <mark>ان</mark>در رکھتی ہے۔آدم کے واقعہ کی تفصیل بی<mark>ان</mark> کرنے کی <mark>غرض</mark> جیسا کہ اوپر کی تشریحات سے ثابت ہے کہ آدم کے واقعہ کی اس تفصیل کے بی<mark>ان</mark> کرنے سے پیدائش عالم کی <mark>غرض</mark> اور حکمت بت<mark>ان</mark>ا مقصود ہے اور یہ بت<mark>ان</mark>ا بھی مقصود ہے کہ ہر زم<mark>ان</mark>ہ میں الہامِ الٰہی کا نزول اسی <mark>غرض</mark> کو پورا کرنے کے لئے ہوتا ہے اور جو لوگ نبیو ںکی بعثت پر <mark>معترض</mark> ہوتے ہیں وہ گویا <mark>دوسرے</mark> الفاظ میں اس امر پر <mark>معترض</mark> ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>ی پیدائش کی <mark>غرض</mark> کو کیوں پورا کرنے لگا ہے اور یہ اعتراض <mark>ان</mark> کا ایسا بودا ہے کہ اس کی بناء پر نبوت کے سلسلہ کو منقطع نہیں کیا جا سکتا۔یہ جو ملائکہ نے کہا کہلَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ہمیں اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھایا اس کا یہ مفہوم نہیں کہ جو تو نے ہمیں سکھایا ہے اسی قدر ہمیں علم ہے کیونکہ یہ تو ایک ظاہر حقیقت ہے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہمارا علم اس طرح بڑھتا نہیں جس طرح کہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کا بڑھتا ہے اور اسے اس کے بڑھ<mark>ان</mark>ے کی مقدرت حاصل ہے اور <mark>دوسرے</mark> یہ کہ ہمارے <mark>ان</mark>در وہی طاقتیں ہیں جو تو نے ہمارے <mark>ان</mark>در رکھی ہیں اور <mark>ان</mark> طاقتوں کے ساتھ ہم <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کے مُتَنَوّع اور جامع علوم کو نہیں پہنچ سکتے یعنی ہم یہ سمجھ گئے ہیں کہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کی پیدائش میں حکمت ہے اور اس کے سپرد ایک ایسا کام ہے جو ہم بھی نہیں کر سکتے اس لئے اگر <mark>بعض</mark> <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> خونریزی کرنے والے ہوں یا خونریزی کا موجب بننے والے ہوں یا شریروں کی شرارتوں کو روکنے کے لئے جائز خونریزی پر مجبور ہوں تب بھی <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کی پیدائش ضروری اور حکیم<mark>ان</mark>ہ فعل ہے۔قَالَ يٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ١ۙ (اس پر اللہ نے )فرمایا اے آدم <mark>ان</mark> (فرشتوں)کو <mark>ان</mark> (چیزوں) کے نام بتا پھر جب اس (یعنی آدم) نے <mark>ان</mark> کو <mark>ان</mark> قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ کے نام بتائے (تو) فرمایا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں یقیناًآسم<mark>ان</mark>وں اور زمین کی چھپی باتیں ج<mark>ان</mark>تا ہوں اور